رسائی کے لنکس

گرم مرطوب علاقوں کی بیماریوں کے خلاف بل گیٹس فاؤنڈیشن کی مہم


عمومی طور پر ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے تقریباً ڈیڑھ ارب افراد گرم مرطوب علاقوں کی 18 بیماریوں میں سے کسی ایک کا شکار ہو جاتے ہیں جنہیں عالمی ادارہ صحت این ٹی ڈی کے نام سے منسوب کرتا ہے۔

بل گیٹس اور ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن ، کئی مغربی ممالک اور دوا ساز کمپنیوں نے کہا ہے کہ وہ گرم مرطوب علاقوں میں پھیلانے والی ان بیماریوں کے خلاف جنگ میں بھرپور حصہ لیں گے جو وہاں ہر سال لاکھوں غریبوں کو اندھے پن، معذروی اور جسمانی ساخت کی بگاڑ سے دوچار کر دیتی ہیں۔

عمومی طور پر ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے تقریباً ڈیڑھ ارب افراد گرم مرطوب علاقوں کی 18 بیماریوں میں سے کسی ایک کا شکار ہو جاتے ہیں جنہیں عالمی ادارہ صحت این ٹی ڈی کے نام سے منسوب کرتا ہے۔

صحت کے عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ اس وقت لگ بھگ ایک ارب افراد کو علاج معالجے کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے جن میں آدھی تعداد بچوں کی ہے۔

جنیوا میں عالمی ادارہ صحت کے تحت ہونے والی ایک کانفرنس میں بدھ کے روز بل گیٹس نے عالمی شراکت داروں سے کہا کہ ہمارے لیے بہتر یہ ہوگا کہ ہم اس بحث میں پڑے بغیر کہ گرم مرطوب خطے کی ان بیماریوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے یا نہیں، اپنی توجہ انہیں ماضی کا حصہ بنانے پر مرکوز رکھیں۔

بل گیٹس کا کہنا تھا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مقصد کے لیے مزید سرمایہ کار سامنے آئیں تاکہ 2030 تک ہم 90 فی صد مریضوں کو علاج معالجہ فراہم کرنے کا اپنا ہدف حاصل کر سکیں۔

بل گیٹس نے کہا کہ ان کی فاؤنڈیشن گذشتہ ایک عشرے کے دوران ان بیماریوں کے خلاف جنگ میں ایک ارب ڈالر کا عطیہ دے چکی ہے ۔ انہوں نے اگلے چاربرسوں کے لیے 33 کروڑ 50 لاکھ ڈالر دینے کا اعلان کیا جس میں گنی ورم کی بیماری کی روک تھام کے لیے 4 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی امداد شامل ہے۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ گنی ورم کا مرض آلودہ پانی پینے سے پھیلتا ہے اور اس بیماری کے نتیجے میں انسانی جسم کے اندر 40 انچ تک لمبے کیچوے نما کیڑے پیدا ہوجاتے ہیں۔

سابق امریکی صدر جمی کارٹر کا قائم کردہ ادارہ کارٹر سینٹر20 سال سے زیادہ عرصے سے اس بیماری کی روک تھام کے لیے کام کررہا ہےاور عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ پچھلے سال چھ ملکوں میں اس بیماری کے صرف 25 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

گرم مرطوب خطے کی بیماریوں میں ڈینگی، اندھا پن اور سونے کا مرض بھی شامل ہے۔ یہ بیماریاں زیادہ تر مچھروں اور مکھیوں سے پھیلتی ہیں اور دریاؤں اور پانی کے قریب رہنے والی آبادیاں زیادہ تر ان کا نشانہ بنتی ہیں۔

کانفرنس میں برطانیہ کے وزیر مملکت لارڈ بیٹس نے اپنی حکومت کی جانب سے 25 کروڑ پاؤنڈ کا عطیہ دینے کا اعلان کیا جب کہ بیلجیئم نے 2 کروڑ 50 لاکھ یورو کا وعدہ کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG