رسائی کے لنکس

یروشلم پر امریکی فیصلے سے انتہا پسندی کو فروغ مل سکتا ہے، چینی میڈیا


صدر ٹرمپ یروشلم کو اسرائیلی دارارلحکومت تسلیم کرنے سے متعلق اپنا حکم نامہ دکھا رہے ہیں۔ 6 دسمبر 2017

چینی اخبارت کے مطابق بیجنگ میں اس فیصلے کو خطرناک اور غیر دانش مندانہ تصور کیا  جا رہا ہے۔

چین کے سرکاری میڈیا نے کہا ہے کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی صدر کے فیصلے کے بڑے پیمانے پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

اخبارات کے کچھ اداریوں میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کا یہ فیصلہ امریکی سر زمین پر مزید دہشت گرد حملوں کی راہ ہموار کر سکتا ہے اور اس سے امریکی معیشت کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

اخبارات کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے اس فیصلے سے واشنگٹن اور عرب دنیا میں اس کے اتحادیوں کے درمیان تعلقات میں بگاڑ پیدا ہوگا۔

چینی اخبارت کے مطابق بیجنگ میں اس فیصلے کو خطرناک اور غیر دانش مندانہ تصور کیا جا رہا ہے۔

سرکاری ٹیلی وژن پر دن بھر نشر کی جانے والی طویل دورانیے کی ایک رپورٹ میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ٹرمپ کے فیصلے سے مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام جنم لے سکتا ہے۔

چائنا گلوبل ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں یہ پیش گوئی کی ہے کہ اس سے عرب اور مسلم اقوام ایک دوسرے کے قریب آئیں گی جس سے انتہا پسندی کا راستہ ہموار ہو سکتا ہے، جو تباہ کن ہوگا۔

اخبار نے لکھا ہے کہ اس فیصلے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ دنیا میں ہر اس جگہ طاقت کا استعمال کر سکتے ہیں جس سے وہ مطمئن نہیں ہیں۔ اور اگر شمالی کوریا جوہری اور بیلسٹک میزائل تجربوں سے باز نہیں آتا تو ٹرمپ کی طرف سے اس کے خلاف طاقت استعمال کرنے کا امکان بڑھ سکتا ہے۔

چین کے اخبار پیپلز ڈیلی نے خبردار کیا ہے کہ یہ فیصلہ امریکہ اور عرب دنیا کے تعلقات پر منفی طور پر اثر انداز ہو گا ۔ اس سے اسرائیل اور سعودی عرب درمیان تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہو گا، جس سے انتہاپسند مذہبی اور قوم پرست گروپس میں یہودی اور امریکہ مخالف جذبات کی ایک نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG