رسائی کے لنکس

مشرق وسطیٰ امن کے لیے ’سفارتی پیش رفت‘ کے حصول کا عہد


صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور فلسطینی اتھارٹی کے رہنما محمود عباس نے بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران مشرق وسطیٰ امن کے لیے سفارتی پیش رفت کے حصول کی کوشش کرنے کا عہد کیا۔

ٹرمپ نے کہا کہ سمجھوتے کے حصول کے لیے فلسطینیوں اور اسرائیل کے لیے ضروری ہے کہ وہ مل کر کام کریں۔ اُنھوں نے کہا کہ ’’مجھے ثالث، مصالحت کار یا سہولت کار بن کر خوشی ہو گی، اور ہم ایسا کر سکتے ہیں‘‘۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اپنی زندگی میں وہ کئی بار سن چکے ہیں کہ اسرائلیوں اور فلسطینیوں کے مابین ’’سمجھوتے تک پہنچنا مشکل ترین کام ہو گا۔ آئیے اس سوچ کو غلط ثابت کریں۔ ٹھیک ہے؟‘‘

روز ویلٹ روم میں امریکی صدر کے ہمراہ کھڑے، اخباری نمائندوں سے مخاطب ہوتے ہوئے، عباس نے عربی میں بولنا شروع کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ ’’ٹرمپ کی باہمت قیادت اور عظیم مذاکراتی صلاحیت‘‘ کے زیر سایہ وہ سمجھتے ہیں کہ فریق اس قابل ہیں کہ ’’تاریخی امن معاہدے‘‘ تک پہنچ سکیں۔

بات کرنے کے بعد وہ ٹرمپ کے ساتھ ہاتھ ملانے کے لیے مڑے تو عباس نے انگریزی میں کہا ’’صاحبِ صدر، اب آپ کے ہوتے ہوئے، ہمیں توقع ہے‘‘۔

چند ہی منٹ بعد جب کابینہ روم میں دوپہر کا کھانا تناول کیا جا رہا تھا، نائب صدر مائیک پینس اور وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کے ہمراہ ٹرمپ نے عباس کو بتایا کہ امن معاہدے کا حصول ’’شاید اتنا مشکل نہ ہو جتنا کہ سالہا سال سے لوگ خیال کرتے آئے ہیں‘‘۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’’ہم سمجھتے ہیں کہ اسرائیل خواہش مند ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ آپ چاہتے ہیں، اور اگر آپ دونوں چاہتے ہیں تو ہم سمجھوتے پر پہنچ جائیں گے‘‘۔

عباس کی فتح سیاسی پارٹی کو حماس سے سخت چیلنج درپیش ہے، جو حریف فلسطینی گروپ غزہ پٹی کو کنٹرول کرتا ہے۔

حماس نے پیر کے روز ایک پالیسی دستاویز جاری کیا جس میں اسرائیل سے متعلق اپنے مؤقف میں کچھ نرمی دکھائی ہے سنہ 1967 کی خطوط پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ کیا، جب کہ مہاجرین اسرائیل میں اپنے گھروں کو واپس ہوں۔ لیکن اس نے ’’دریا اور بحری راستے سے فلسطین کی مکمل آزادی کے متبادل‘‘ کو رد کیا۔

اسرائیلی حکومت نے ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حماس کی نئی دستاویز بین الاقوامی برادری کو ’’بیوقوف‘‘ بنانے کی ایک کوشش ہے۔

بدھ کے روز اپنے کلمات میں، عباس نے متنبہ کیا کہ ’’(سمجھوتے سے قبل، اسرائیل کی جانب سے) یکطرفہ اقدامات نہیں کیے جانے چاہئیں‘‘۔

فلسطینی راہنما نے کہا کہ ’’اسرائیل کے لیے وقت آگیا ہے کہ ہمارے لوگوں اور ہماری سرزمین پر اپنا قبضہ خالی کرے‘‘۔

خیال کیا جاتا ہے کہ اس ماہ کے اواخر کے لگ بھگ صدر ٹرمپ اسرائیل کا دورہ کر سکتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG