رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان کی امداد روکنے کا باضابطہ اعلان آج متوقع


امریکی کانگریس کی عمارت (فائل فوٹو)

'رائٹرز' کے مطابق تاحال یہ واضح نہیں کہ امریکہ پاکستان کی کتنی اور کس مد میں دی جانے والی امداد روک رہا ہے اور نہ ہی یہ علم ہوسکا ہے کہ یہ امداد کب تک کے لیے روکی جائے گی۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت پاکستان کو دی جانے والی امداد روکنے سے متعلق کانگریس کو جمعرات کو باضابطہ طور پرآگاہ کرنے والی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق کم از کم دو ارکانِ کانگریس کے معاونین نے بتایا ہے کہ امریکی محکمۂ خارجہ نے بدھ کو ارکانِ کانگریس کو مطلع کیا ہے کہ وہ جمعرات کو پاکستان کی امداد روکنے سے متعلق باضابطہ اعلان کرے گا۔

'رائٹرز' کے مطابق تاحال یہ واضح نہیں کہ امریکہ پاکستان کی کتنی اور کس مد میں دی جانے والی امداد روک رہا ہے اور نہ ہی یہ علم ہوسکا ہے کہ یہ امداد کب تک کے لیے روکی جائے گی۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ سینڈرز نے اس بات کی تصدیق یا تردید کرنے سے انکار کردیا ہے کہ پاکستان کی امداد روکنے کا اعلان جمعرات کو متوقع ہے۔ محکمۂ خارجہ نے بھی 'رائٹرز' کی جانب سے اس ضمن میں پوچھے جانے والے سوال کا فوری جواب نہیں دیا ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ نے ارکانِ کانگریس سے رابطہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس ٹوئٹ کے بعد کیا ہے جس میں انہوں نے پاکستان پر امریکہ سے اربوں ڈالر امداد لینے اور بدلے میں امریکہ کو صرف "جھوٹ اور دھوکہ" دینے کا الزام عائد کیا تھا۔

صدر ٹرمپ کے ٹوئٹ کے بعد وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ ہکابی سینڈرز نے کہا تھا کہ ٹرمپ حکومت پاکستان سے متعلق اپنی مستقبل کی حکمتِ عملی کا اعلان آئندہ ایک دو روز میں کرے گی۔

سالِ نو کے پہلے دن صدر کی جانب سے کیے جانےو الے اس ٹوئٹ کے بعد امریکی حکومت کے کئی اعلیٰ عہدیدار بشمول قومی سلامتی کے امریکی مشیر ایچ آر مک ماسٹر اور اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی بھی پاکستان پر امریکہ کے ساتھ "دہرا کھیل" کھیلنے اور دہشت گردوں کی پشت پناہی کے الزامات عائد کرچکے ہیں۔

عالمی ادارے میں امریکی سفیر نکی ہیلی نے منگل کو ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کی پشت پناہی بند نہ کرنے پر امریکہ پاکستان کودی جانےو الی 25 کروڑ ڈالر کی امداد روک رہا ہے۔

منگل کو وائس آف امریکہ کو دیے جانے والے ایک خصوصی انٹرویو میں امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر ایچ آر مک ماسٹر نے بھی الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کو اپنی خارجہ پالیسی کا ایک جزو سمجھتا ہے اور دہشت گردوں کے خلاف اس کی کارروائی امتیازی ہے۔

پاکستان کی سول اور عسکری قیادت امریکی حکام کے ان بیانات کو سختی سے مسترد کرچکی ہے جب کہ پاکستان کے دفترِ خارجہ نے اسلام آباد میں تعینات امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل کو طلب کرکے صدر ٹرمپ کے ٹوئٹ کی وضاحت بھی طلب کی تھی۔

امریکی کانگریس کے کئی ارکان – خصوصاً ری پبلکنز جنہیں کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل ہے - پاکستان کی حکومت اور فوج پر افغانستان میں مداخلت اور افغان طالبان کی پشت پناہی کا الزام عائد کرتے ہوئے ماضی میں بھی اس کی امداد روکنے کے مطالبات کرتے رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG