رسائی کے لنکس

logo-print

ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے 225 ملین ڈالر کی اضافی غیر ملکی امداد کا اعلان


امریکی وزیر خارجہ

ٹرمپ انتظامیہ نے دنیا بھر میں کرونا وائرس سے نبرد آزما ملکوں کی مدد کیلئے 225 ملین ڈالر اضافی امداد کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان کے بعد امریکہ کی غیر ملکی امداد کی کل رقم تقریباً نصف ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

اس امداد میں حفاظتی لباس شامل نہیں ہے، کیونکہ اس کی مانگ خود امریکہ میں بہت زیادہ ہے۔ تاہم، امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ اس امداد کا مقصد غیر ممالک کی کرونا وائرس کے خلاف جنگ کو تقویت دینا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ رقم، تشخیص، احتیاط اور کنٹرول اور صحت سے متعلق مقامی نظام کو مضبوط بنانے کیلئے استعمال ہوگی۔ اس رقم سے ممالک اپنی اپنی لیبارٹریوں کو جانچ کیلئے اور طبی عملے کی تربیت کیلئے استعمال کر سکیں گے۔

گزشتہ ماہ امریکہ نے دنیا کے 64 ممالک کو کرونا وائرس سے بچاؤ اور علاج کیلئے 274 ملین ڈالر امداد کا اعلان کیا تھا۔

ادھر، خبر رساں ادارے، اے پی نے روس سے خبر دی ہے کہ روسی ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ کرونا وائرس کے خلاف نئی ویکسین کے تجربات میں مزید تیزی پیدا کر سکتے ہیں۔

روس کی سرکاری ویکٹور لیبارٹری کے سربراہ نے روس کے صدر ولیدیمیر پیوٹن کو بتایا ہے کہ نئی ویکسین کے تجربات کا آغاز ماہِ جون کی بجائے مئی میں کیا جا سکتا ہے۔

لیبارٹری کے سربراہ کا کہنا تھا کہ نئی ویکسین کے تجربے میں شرکت کیلئے، تین سو سے زیادہ رضاکاروں نے اپنی خدمات پیش کی ہیں۔

صدر پیوٹن کا کہنا ہے کہ روس میں صورتحال ابھی اپنی انتہائی حد تک نہیں پہنچی، انھوں نے کہا کہ صورتحال مشکل ضرور ہے، لیکن مایوس کن نہیں۔

روس میں منگل کے روز 1154 نئے مریض سامنے آئے ہیں، جس کے بعد ملک میں کرونا وائرس کا شکار کل مریضوں کی تعداد 7457 ہوگئی ہے، اور اب تک صرف اٹھاون اموات ہوئی ہیں۔

صدر پیوٹن نے اپنے ماہرین سے پوچھا ہے کہ کیا پہلے سے عائد کردہ چند پابندیوں میں نرمی کی جا سکتی ہے، تاکہ ملک کی معیشت پر پڑنے والے بوجھ کو کم کیا جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ ہفتے صورتحال واضح ہوگی کہ لاک ڈاؤن سے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد ملی ہے یا نہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG