رسائی کے لنکس

امریکہ کا عالمی امداد کے لیے افغانستان میں جامع حکومت کے قیام پر زور


فائل فوٹو

امریکہ نے افغانستان کے لیے عالمی امداد جاری رکھنے کی غرض سے ایک مرتبہ پھر جامع حکومت کے قیام کو ضروری قرار دیا ہے۔

امریکہ کی نائب معاون وزیر خارجہ برائے جنوبی و سط ایشیائی امور ایلس ویلز نے اتوار کو ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ بین الاقوامی امدادی اداروں کے خیال میں افغانستان میں حکومتی معاملات پہلے کی طرح جاری نہیں رہ سکتے۔ امداد جاری رہنے کے لیے جامع حکومت ضروری ہے۔

امریکہ کی اعلیٰ سفارت کار ایلس ویلز کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب افغان صدر اشرف غنی اور ان کے سیاسی حریف عبداللہ عبداللہ کے درمیان سیاسی تنازع تاحال حل نہیں ہوسکا ہے۔

ایلس ویلز کا کہنا ہے کہ ہمیں افغان رہنماؤں کو متفقہ حکومت پر رضامند کرنا ہوگا ۔

گزشتہ سال ستمبر میں ہونے والے افغان صدارتی انتخابات کے بعد الیکشن کمیشن کے جاری کردہ نتائج کے مطابق افغان صدر اشرف غنی کامیاب قرار پائے تھے لیکن ان کے حریف عبداللہ عبداللہ نے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے متوازی حکومت کے قیام کا اعلان کیا تھا۔

گزشتہ ماہ صدر اشرف غنی نے دوسری مدت کے لیے افغان صدر کے عہدے کا حلف اٹھایا تو دوسری جانب عبداللہ عبداللہ نے بھی اسی دن ایک تقریب میں متوازی صدر کا حلف اٹھایا تھا۔

اگرچہ امریکہ، یورپی یونین اور اقوام متحدہ افغان سیاسی قیادت پر جامع حکومت کی تشکیل پر ضرور دیتے آ رہے ہیں تاکہ افغان امن عمل میں پیش رفت ہوسکے لیکن ابھی تک کابل میں جاری سیاسی بحران کا کوئی حل سامنے نہیں آ سکا ہے۔

حال ہی میں صدر اشرف غنی نے افغان پارلیمان کے بعض ارکان سے ملاقات کے دوران عبداللہ عبداللہ کو افغان امن کونسل کی سربراہی کی پیش کش کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ عہدہ افغان نائب صدر کے عہدے کے مساوی ہو گا۔

ساتھ ہی انہوں نے عبداللہ عبداللہ کے ساتھیوں کی افغان کابینہ میں شمولیت پر رضامندی کا بھی اظہار کیا تھا۔

افغان صحافی اور تجزیہ کار زمریالئی اباسین کا کہنا ہے کہ عبداللہ عبداللہ نے یہ پیش کش قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔

ان کے خیال میں عبداللہ عبداللہ افغان حکومت میں ایک ایسے نمایاں سیاسی کردار کے خوہاں ہیں جس کے تحت افغانستان کے سیاسی و خارجہ معاملات میں ان کا فیصلہ کن اور اہم کردار ہو۔

اباسین کے بقول افغانستان کے بعض سیاسی رہنما صدر غنی اور عبداللہ عبدللہ کے درمیان جاری سیاسی تنازع کو جلد حل کرنے کے خواہش مند ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس تنازعے کی وجہ سے ناصرف بین الافغان امن مذاکرات میں تاخیر ہو رہی بلکہ اس کی وجہ سے امریکہ اور طالبان کےدرمیان فروری کے اواخر میں طے پانے معاہدے پر عمل درآمد کی راہ میں بھی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

گزشتہ ماہ امریکہ کے وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے صدر غنی اور عبداللہ عبداللہ کے باہمی اختلافات دور کرنے کے لیے کابل کا دورہ کیا تھا اور دونوں رہنماؤں سے الگ الگ ملاقات کی تھی لیکن وہ ان دونوں رہنماؤں کو ایک جامع حکومت کی تشکیل پر رضامند کرنے میں ناکام رہے تھے ۔

دورے کے بعد انہوں نے افغانستان کو دی جانے والی امریکی امداد میں ایک ارب ڈالرز کی کمی کردی تھی تاہم انہوں نے یہ واضح کیا تھا کہ اگر افغان قیادت سیاسی بحران حل کر لیتی ہے تو امریکہ کمی کے فیصلے پر نظرثانی کر سکتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG