رسائی کے لنکس

logo-print

ٹرمپ اور کم جونگ ان کی دوسری ملاقات آئندہ ماہ ہوگی


دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلی ملاقات گزشتہ سال جون میں سنگاپور میں ہوئی تھی۔ (فائل فوٹو)

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کے درمیان دوسری ملاقات آئندہ ماہ فروری میں طے پا گئی ہے۔

سربراہی ملاقات کا اعلان شمالی کوریا کے اعلیٰ مذاکرات کار کے دورۂ امریکہ کے دوران سامنے آیا ہے جنہوں نے جمعے کو واشنگٹن ڈی سی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تھی۔

شمالی کوریا کی حکمران کمیونسٹ پارٹی کے نائب سربراہ اور کم جونگ ان کے دستِ راست کم یونگ چول کی صدر ٹرمپ کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہی تھی۔

ملاقات کے بعد وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ سینڈرز نے صحافیوں کو بتایا کہ صدر ٹرمپ اور چیئرمین کم جونگ ان کے درمیان ملاقات فروری کے آخر میں طے پاگئی ہے جس کے مقام اور تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کے ساتھ مختلف معاملات پر بات چیت کا سلسلہ جاری ہے اور اس پر عائد پابندیاں فی الحال نافذ رہیں گے۔

کم جونگ ان اور صدر ٹرمپ کے درمیان دوسری ممکنہ ملاقات کی قیاس آرائیاں گزشتہ کئی ہفتوں سے گردش میں تھیں۔

یہ قیاس آرائیاں رواں ہفتے کم یونگ چول کے غیر اعلانیہ دورۂ امریکہ کی خبریں ذرائع ابلاغ میں آنے کے بعد مزید زور پکڑ گئی تھیں۔

کم یونگ چول اس سے قبل گزشتہ سال جون میں امریکہ آئے تھے جس کے بعد صدر ٹرمپ اور کم جونگ ان کی ملاقات ممکن ہوسکی تھی۔ (فائل فوٹو)
کم یونگ چول اس سے قبل گزشتہ سال جون میں امریکہ آئے تھے جس کے بعد صدر ٹرمپ اور کم جونگ ان کی ملاقات ممکن ہوسکی تھی۔ (فائل فوٹو)

کم یونگ چول جمعرات کو واشنگٹن ڈی سی پہنچے تھے جہاں جمعے کی صبح ان کی امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو سے بھی ملاقات ہوئی تھی۔

چول شمالی کوریا کے اعلیٰ مذاکرات کار ہیں جو اپنے ملک کے ایٹمی پروگرام اور دیگر معاملات پر ماضی میں مائیک پومپیو سے بات چیت کرتے رہے ہیں۔

وہ اس سے قبل گزشتہ سال جون میں واشنگٹن ڈی سی آئے تھے جہاں انہوں نے کم جونگ ان کا ایک خط امریکی صدر ٹرمپ کو پہنچایا تھا۔

اس خط کے نتیجے میں شمالی کوریا کے سربراہ اور امریکی صدر کے درمیان پہلی تاریخی ملاقات کی راہ ہموار ہوئی تھی جو نصف صدی سے زائد عرصے کے دوران دونوں ممالک کے سربراہان کی پہلی ملاقات تھی۔

بارہ جون کو سنگاپور میں ہونے والی اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے جزیرہ نما کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

لیکن اس ملاقات کے بعد سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں کچھ خاص پیش رفت نہیں ہوسکی ہے جس پر شمالی کوریا کی حکومت ناراضی کا اظہار کرتی آئی ہے۔

رواں سال کے آغاز پر اپنے خطاب میں کم جونگ ان نے امریکہ کے ساتھ بات چیت آگے نہ بڑھنے اور اپنے ملک پر عائد اقتصادی پابندیاں ختم نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ دوبارہ صدر ٹرمپ سے ملاقات کے خواہش مند ہیں۔

صدر ٹرمپ کے ساتھ ملاقات سے قبل کم یونگ چول نے امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو سے ملاقات کی تھی۔
صدر ٹرمپ کے ساتھ ملاقات سے قبل کم یونگ چول نے امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو سے ملاقات کی تھی۔

ویتنام ملاقات کی میزبانی کا خواہش مند

جنوب مشرقی ایشیا کے ملک ویتنام نے امریکہ اور شمالی کوریا کےسربراہان کو ان کی مجوزہ ملاقات کی میزبانی کی پیش کی ہے۔

ویتنام کے وزیرِ اعظم نگوئن شوان پھوک نے جمعے کو ایک غیر ملکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک دونوں سربراہان کے استقبال کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ دونوں ملکوں نے مجوزہ سربراہی ملاقات کے بارے میں کیا فیصلہ کیا ہے لیکن اگر یہ ملاقات ان کے ملک میں ہوئی تو وہ اس میں معاونت کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔

ویتنام کے شمالی کوریا اور امریکہ دونوں کے ساتھ ہی اچھے تعلقات ہیں۔ خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ویتنام کی حکومت نے مجوزہ سربراہی ملاقات کے انعقاد کی ابتدائی تیاریاں بھی شروع کردی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG