رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ کا سعودی عرب اور امارات کو ہتھیار فروخت کرنے کا اعلان


صدر ٹرمپ نے گزشتہ سال سعودی عرب کا سرکاری دورہ بھی کیا تھا۔ (فائل فوٹو)

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن کو آٹھ ارب ڈالر کے ہتھیار فروخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی کے باعث خلیج میں امریکہ کے اتحادی سعودی عرب کو خطرہ لاحق ہے جس کے پیشِ نظر یہ معاہدہ ضروری ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی صدر اس ضمن میں کانگریس کی منظوری کو بالائے طاق رکھ کر وفاقی قانون کی اس شق کا سہارا لے رہے ہیں جس کا استعمال ماضی میں کم ہی دیکھنے میں آیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کشیدگی کو 'قومی ایمرجنسی' قرار دیتے ہوئے اپنے اس اقدام کا دفاع کیا ہے۔

مروجہ طریقہ کار کے مطابق ہتھیاروں کی فروخت سے متعلق بڑے مجوزہ معاہدوں کو کانگریس میں زیرِ بحث لایا جاتا ہے۔

کانگریس نے چند ماہ قبل حملے میں استعمال ہونے والے اسلحے کی سعودی عرب اور خلیجی ممالک کو فروخت پر پابندی لگا دی تھی۔

امریکی کانگریس نے یہ اقدام سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے یمن میں فضائی بمباری کے باعث متعدد شہریوں کی ہلاکت، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور صحافی جمال خشوگی کی ہلاکت کے تناظر میں کیا تھا۔

بعض ڈیمو کریٹک ارکان کے مطابق صدر ٹرمپ سعودی عرب کو بموں سمیت دیگر ہتھیاروں کی فروخت کے معاملے پر اسلحے کی فروخت کے قانون میں موجود سقم کا سہارا لے رہے ہیں۔ جس میں قومی ایمرجنسی کا نفاذ بھی شامل ہے۔

سینیٹر کرس مرفی کے مطابق صدر ٹرمپ محض اس لیے ایمرجنسی کا سہارا لے رہے ہیں کہ انہیں معلوم ہے کہ کانگریس ان سے اتفاق نہیں کرے گی۔ ان کے بقول یہ کوئی ایمرجنسی نہیں ہے کہ ہم سعودی عرب کو یہ اجازت دیں کہ وہ یمن میں بم گرائے اور ایک نیا انسانی المیہ جنم لے۔

امریکہ کا جنگی بیڑا کشیدگی کے باعث مشرق وسطی میں موجود ہے۔
امریکہ کا جنگی بیڑا کشیدگی کے باعث مشرق وسطی میں موجود ہے۔

کانگریس میں بہت سے ڈیمو کریٹک اور ری پبلکن ارکان اس بات پر متفق ہیں کہ اگر کانگریس نے اس معاملے میں مزاحمت نہ کی تو مستقبل میں بھی امریکی صدور اس روایت کو استعمال کریں گے۔

امریکہ کے وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ خلیج میں امریکہ کے اتحادیوں کو ایران کے خلاف کم سے کم دفاعی صلاحیت برقرار رکھنے کے لیے اسلحے کی فروخت ضروری ہے۔ ان کے بقول ایران کی سرگرمیاں نہ صرف خطے کے ممالک بلکہ امریکی مفادات کے لیے بھی خطرہ ہیں۔

امریکی صدر کے اس فیصلے پر ارکانِ کانگریس کی جانب سے بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔ بعض ارکان کا کہنا ہے کہ امریکہ کا یہ اقدام 'آمر حکومت' کی حمایت کے مترادف ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اس وقت شروع ہوئی تھی جب رواں ماہ کے آغاز میں امریکہ نے ایران سے تیل درآمد کرنے والے آٹھ ممالک کا استثنیٰ ختم کرتے ہوئے ایران پر مزید پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

امریکی پابندیوں کے جواب میں ایران نے بھی دھمکی دی تھی کہ وہ 2015ء میں امریکہ اور یورپی ممالک کے ساتھ طے شدہ جوہری معاہدے سے الگ ہو کر یورینیم کی افزودگی شروع کر دے گا۔ واضح رہے کہ امریکی صدر گزشتہ سال اس معاہدے سے یک طرفہ طور پر الگ ہو گئے تھے۔

چند روز قبل متحدہ عرب امارات کی فجیرہ بندرگاہ کے قریب خلیج عمان میں چار تیل بردار جہازوں میں تخریب کاری کی گئی تھی۔ ان میں دو سعودی آئل ٹینکر بھی شامل تھے۔ امریکہ اور سعودی عرب نے اس واقعے کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرایا تھا۔

امریکہ نے ایران کے پاسدران انقلاب کو بھی بلیک لسٹ کر دیا تھا۔
امریکہ نے ایران کے پاسدران انقلاب کو بھی بلیک لسٹ کر دیا تھا۔

حال ہی میں سعودی عرب کی آئل تنصیبات کو بھی ایران نواز حوثی باغیوں کی جانب سے نشانہ بنایا گیا تھا جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی تھی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ کے امکان کو رد کر چکے ہیں تاہم حال ہی میں انہوں نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا تھا کہ اگر جنگ ہوئی تو ایران کا باقاعدہ خاتمہ ہو جائے گا۔

امریکہ نے ممکنہ خطرات کے پیش نظر ایک جنگی بیڑا بھی خلیج میں تعینات کر رکھا ہے جبکہ اس نے مزید فوجی دستے بھی خلیج بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG