رسائی کے لنکس

logo-print

پہلے صدارتی مباحثے کے تین نمایاں پہلو


کلیولینڈ میں ہونے والے پہلے صدارتی مباحثے کا ایک منظر۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جو بائیڈن آمنے سامنے۔ 29 ستمبر 2020

صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور تین نومبر کو ہونے والے انتخابات میں ان کے مدمقابل جوزف بائیڈن کے درمیان پہلا صدارتی مباحثہ منگل کی رات ریاست اوہائیو کے شہر کلیو لینڈ میں ہوا۔

ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہنے والے اس مباحثے میں دونوں امیدواروں کے درمیان خوب سیاسی نوک جھو نک اور گرما گرم بحث ہوئی۔ اگرچہ کیس ویسٹرن یونیورسٹی میں منعقد ہونے والے اس مباحثے کے میزبان کرس ویلس نے کئی موضوعات پر سوال کیے، لیکن مباحثے کے دوران تین پہلو خاص طور پر نمایاں رہے۔

روک ٹوک

اگر مباحثے کے انداز کو دیکھا جائے تو دونوں رہنماؤں نے اپنے حریف کے بیان کے دوران کئی مواقع پر انہیں ٹوکا اور بات روکنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں کئی نکات کی وضاحت اور تفصیلات میں کمی کا احساس ہوا۔

میزبان کرس ویلس نے صدر ٹرمپ سے کئی بار یہ گزارش کی کہ وہ بائیڈن کو اپنا بیان مکمل کرنے دیں۔ ایک موقع پر بائیڈن نے صدر سے سوالیہ انداز میں کہا کہ "کیا آپ خاموش ہو سکتے ہیں۔"

پرائم ٹائم کے دوران ٹی وی چینلوں اور سوشل میڈیا کے کئی پلیٹ فارمز پر لائیو دکھائے جانے والے اس مباحثے میں متعدد موقعوں پر دونوں امیدوار بیک وقت بولتے رہے۔

ٹیکس کا معاملہ

مباحثے سے دو روز قبل 'دی نیویارک ٹائمز' نے صدر ٹرمپ کی ٹیکس ادائیگی سے متعلق ایک رپورٹ شائع کی جس میں دعوی کیا گیا تھا کہ ارب پتی ہونے کے باوجود ٹرمپ نے 2016 اور اپنی صدارت کے پہلے سال 2017 میں ہر برس صرف 750 ڈالر کا فیڈرل ٹیکس ادا کیا۔

جب میزبان ویلس نے یہ سوال صدر ٹرمپ کے سامنے رکھا تو انہوں نے کہا کہ میں نے کئی ملین ڈالر ٹیکس ادا کیا ہے اور اس کے متعلق آپ کو جلد پتا چل جائے گا۔ تاہم انہوں نے اس کی تفصیلات نہیں بتائیں۔

جب میزبان ویلس نے ڈیموکریٹک امیدوار بائیڈن سے اس معاملے پر سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ آپ اپنے ٹیکس کی دستاویز دکھائیں اور پھر جلد ہی انہوں نے ری پبلیکن حکمران پارٹی کی طرف سے دی گئی ٹیکسوں کی چھوٹ کو ختم کرنے کے لیے اپنے منصوبے پر بات شروع کر دی۔

نسلی مسائل اور تشدد

نسل اور تشدد کا موضوع مباحثے کے لیے منتخب کیے گئے چھ بڑے مسائل میں شامل تھا۔ یہ موضوع اس سال کینو شا اور وسکانسن جیسے شہروں میں مظاہروں سے پیدا ہونے والی صورت حال کے تناظر میں شامل کیا گیا تھا۔

پچھلے ہفتے ایف بی آئی اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کے حکام نے خبردار کیا تھا کہ اپنی بالادستی پر یقین رکھنے والے سفید فام گروہ امریکہ میں تشدد کے حوالے سے ایک خطرہ ہیں۔

اس حساس مسئلے پر صدر ٹرمپ اور میزبان ویلس کے درمیان اس وقت سوال و جواب ہوئے، جب میزبان نے دو ٹوک الفاظ میں یہ پوچھنا چاہا کہ کیا صدر ٹرمپ کھل کر سفیدفام بالادستی کے قائل گروہوں کی مذمت کرتے ہیں۔

میزبان نے صدر سے یہ بھی سوال کیا کہ آیا وہ سفیدفام گروہوں پر یہ زور دیں گے کہ وہ نسلی امتیاز کے خلاف مظاہروں سے دور رہیں تاکہ تشدد کے واقعات کو روکا جا سکے۔

اس مسئلے پر جواب میں صدر ٹرمپ نے پہلے تو پس و پیش سے کام لینے کی کوشش کی، لیکن میزبان کے اصرار پر انہوں نے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں ایسے لوگوں کو کسی نام سے پکاروں، مجھے کوئی نام بتائیں۔

جب میزبان ویلس نے "پراوڈ بوائز" نامی دائیں بازو کے انتہا پسند گروپ کی نشاندہی کی، تو صدر ٹرمپ نے گروہ سے مخاطب ہو کر کہا:

"پراوڈ بوائز۔ پیچھے ہٹ جائیے اور ایک طرف ہو جائیے۔"

یہ کہنے کے بعد صدر ٹرمپ نے بائیں بازو کے گروہ "انٹیفا" کی جانب یہ کہتے ہوئے توجہ دلائی۔

"کسی کو انٹیفا اور بائیں بازو کے متعلق بھی کچھ کرنا چاہیے کیونکہ یہ دائیں بازو کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ بائیں بازو کا مسئلہ ہے۔"

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG