رسائی کے لنکس

logo-print

پلوامہ واقعے پر پاکستان، بھارت سے رابطے میں ہیں: امریکہ


امریکی محکمۂ خارجہ کے نائب ترجمان رابرٹ پلاڈینو صحافیوں سے گفتگو کر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کےزیرِ انتظام کشمیر میں گزشتہ ہفتے ہونے والے خود کش حملے کو "ہول ناک" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حکومت مناسب وقت پر اس معاملے پر بیان دے گی۔

منگل کی شام وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران پلوامہ حملے سے متعلق سوال پر امریکی صدر کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ ان کی نظر سے گزرا ہے اور اس پر انہیں بہت سی رپورٹس ملی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت اس معاملے پر مناسب وقت پر تبصرہ کرے گی۔ لیکن ساتھ ہی امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان اور بھارت اپنے معاملات خود ہی حل کرلیں تو یہ بہت بہتر ہوگا۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں گزشتہ ہفتے سکیورٹی فورسز کے ایک قافلے پر خودکش حملے میں وفاقی پولیس کے لگ بھگ 50 اہلکارہلاک ہوگئے تھے۔

بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان پر لگایا ہے اور واقعے کے بعد سے بھارتی حکومت کے اعلیٰ ذمہ داران مسلسل پاکستان کے خلاف سخت بیانات دے رہے ہیں۔

پاکستان کی حکومت حملے میں ملوث ہونے کے الزام کی تردید کرچکی ہے اور اس نے اقوامِ متحدہ سے کہا ہے کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی ختم کرانے کے لیے کردار ادا کرے۔

اس سے قبل منگل کو ہی امریکی محکمۂ خارجہ کے ایک ترجمان رابرٹ پلا ڈینو نے ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا تھا کہ ٹرمپ حکومت پلوامہ واقعے پر دونوں ملکوں کی حکومتوں سے رابطے میں ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ پلوامہ حملے کی ذمہ داری اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گردی قرار دی جانے والی جیشِ محمد نے قبول کی ہے جس کے ٹھکانے پاکستان میں ہیں۔

امریکی ترجمان کے بقول ہم تمام ممالک پر زور دیتے ہیں وہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور کردہ قراردادوں کی روشنی میں اپنی ذمہ داریاں ادا کریں اور دہشت گردوں کی مدد اور انہیں ٹھکانوں کی فراہمی بند کریں۔

پلاڈینو کا کہنا تھا کہ بھارت دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہے جس کے مقابلے میں اسے امریکہ کی مکمل مدد حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان قریبی سکیورٹی تعاون ہے اور انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں بھی اس کے دائرۂ اختیار میں آتی ہیں۔

امریکی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت پلوامہ واقعے پر پاکستان سے بھی رابطے میں ہے اور ہم پاکستان پر زور دیتے ہیں کہ وہ حملے کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی میں مکمل تعاون کرے۔

پاکستان پہلے ہی بھارت کو پیش کش کرچکا ہے کہ وہ کسی بھی سطح پر واقعے کی تحقیقات کے لیے تیار ہے لیکن بھارت نے تاحال پلوامہ واقعے کی مشترکہ یا بین الاقوامی تحقیقات کا کوئی عندیہ نہیں دیا ہے۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے منگل کو پلوامہ واقعے پر پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر بھارت نے حملے میں پاکستانیوں کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت دیا تو پاکستان ذمہ داروں کے خلاف ضرور کارروائی کرے گا۔

لیکن ساتھ ہی اپنی تقریر میں عمران خان نے خبردار کیا تھا کہ اگربھارت نے پلوامہ واقعے کے ردِ عمل میں پاکستان کے خلاف کوئی کارروائی کی تو پاکستان جوابی حملے میں دیر نہیں لگائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG