رسائی کے لنکس

logo-print

حملہ ہوا تو فوری جوابی حملہ کریں گے: عمران خان


وزیرِ اعظم عمران خان پلوامہ حملے پر پالیسی بیان دیتے ہوئے۔ 19 فروری 2019

پاکستان کے وزیرِا عظم عمران خان نے بھارت کی حکومت کو پیش کش کی ہے کہ وہ پلوامہ حملے کی آزادانہ تحقیقات کرائے اور اگر اس کے پاس پاکستانیوں کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت ہے تو وہ اسلام آباد کو دے جس پر کارروائی کی جائے گی۔

منگل کو پلوامہ حملے پر پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیرِ اعظم پاکستان نے کہا کہ بھارت نے بغیر کسی ثبوت اور تحقیقات کے پلوامہ کے واقعے کا الزام پاکستان پر عائد کیا اور یہ بھی نہیں سوچا کہ اس میں پاکستان کا کیا فائدہ ہے۔

گزشتہ ہفتے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیرکے ضلع پلوامہ میں سیکورٹی فورسز کے ایک قافلے پر خود کش حملے میں بھارت کی وفاقی پولیس کے لگ بھگ 50 اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

بھارت کی حکومت نے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا ہے جس کی پاکستان تردید کرچکا ہے۔ واقعے کے بعد سے خطے کی صورتِ حال کشیدہ ہے۔

منگل کو حملے پر اپنے پہلے باضابطہ ردِ عمل میں عمران خان نے کہا کہ بھارت کی حکومت نے حملے کا الزام پاکستان پر عائد کرنے سے پہلے یہ بھی نہیں سوچا کہ وہاں استحکام آ رہا ہے اور معاملات بہتر ہو رہے ہیں تو ایسے وقت میں وہ کیوں کسی تنازع میں الجھنا چاہے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر بھارت کے پاس کوئی 'ایکشن ایبل انٹیلی جنس' ہے تو وہ پاکستان کو دے جس پر کارروائی کی جائے گی۔

عمران خان نے کہا کہ دہشت گردی پورے خطے کا بڑا مسئلہ ہے اور پاکستان کی قیادت اس مسئلے پر بھارت سے بات کرنے کو تیار ہے۔

لیکن ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بھارت سمجھتا ہے کہ وہ پاکستان پر حملہ کرے گا تو پاکستان سوچے گا نہیں بلکہ فوراً جواب دے گا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ شروع کرنا تو انسان کے اختیار میں ہوتا ہے لیکن ختم کرنے اس کے ہاتھ میں نہیں ہوتا۔

منگل کی دوپہر ملک کے ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والے اپنے ریکارڈ شدہ بیان میں عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ یہ بیان بھارت کی قیادت کے لیے دے رہے ہیں جس نے بغیر سوچے سمجھے اور کسی ثبوت کے بغیر واقعے کا الزام پاکستان پر عائد کیا۔

انہوں نے کہا کہ پلوامہ واقعے کے بعد بھارت کی قیادت کو بھی سوچنا چاہیے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے اور کشمیر کے نوجوان موت سے بے خوف کیوں ہوگئے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ افغان تنازع کی طرح کشمیر کا مسئلہ بھی مذاکرات سے حل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ بھارت کی قیادت سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا آپ ہمیشہ ماضی میں ہی پھنسے رہنا چاہتے ہیں؟

عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ وہ واقعے کے فوری بعد ہی اس پر ردِ عمل دینا چاہتے تھے لیکن پاکستان کی حکومت کی ساری توجہ سعودی ولی عہد کے دورے پر مبذول تھی۔

انہوں نے کہا کہ سعودی ولی عہد کا دورہ پاکستان کے لیے انتہائی اہم تھا اور بھارت کو خود سوچنا چاہیے کہ پاکستان اتنے اہم موقع پر کوئی ایسا واقعہ کیوں کرے گا۔

پلوامہ حملے کے بعد سے بھارت میں کئی حلقے پاکستان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی سمیت کئی اہم ذمے دار واقعے کا الزام پاکستان پر لگاتے ہوئے اس کے خلاف اقدامات کا عندیہ دے چکے ہیں۔

بھارتی وزارت خارجہ کا ردعمل

1- پلوامہ حملے پر پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے بیان پر بھارت کی وزارت خارجہ نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم کی جانب سے بھارتی سیکورٹی فورسز پر حملے کو دہشت کا واقعہ تسلیم نہ کیا جانا حیران کن نہیں ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم نے نہ تو اس ہولناک واقعہ کی مذمت کی ہے اور نہ ہی متاثرہ خاندانوں کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

2- دہشت گرد حملے اور پاکستان کے درمیان کسی تعلق سے انکار ایک ایسا عمل جو پاکستان بارہا کر چکا ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم نے جیش محمد اور دہشت گرد کے دعوؤں کو بھی نظر انداز کر دیا جس نے اس حملے کا ارتکاب کیا تھا۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ جیش محمد کا لیڈر مسعود اظہر پاکستان میں قیام پذیر ہے۔ پاکستان کی جانب سے ایکشن کے لیے صرف یہی ثبوت کافی ہے۔

3- پاکستانی وزیراعظم کی طرف سے بھارت سے ثبوت ملنے پر تحقیقات کی پیش کش ایک بےکار بہانہ ہے۔ اس سے پہلے 26 نومبر کے ممبئی حملے کے شواہد پاکستان کو فراہم کیے گئے تھے لیکن 10 سال گزرنے کے باوجود پاکستان نے اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں کی۔

4- پاکستانی وزیر اعظم نے نئی سوچ کے حامل نئے پاکستان کا حوالہ دیا ہے۔ جب کہ نیا پاکستان یہ ہے کہ موجودہ حکومت کے وزیر، اقوام متحدہ کے نامزد کردہ حافظ سعید جیسے دہشت گردوں کے ساتھ کھلم کھلا مشترکہ پلیٹ فارم پر آتے ہیں۔

5- پاکستانی وزیر اعظم نے مذاکرات کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دہشت گردی پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ بھارت کئی بار کہہ چکا ہے کہ وہ دہشت اور تشد سے پاک ماحول میں دو طرفہ جامع بات چیت کے لیے تیار ہے۔

6- پاکستان یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ دہشت گردی کا سب سے زیادہ نشانہ بنا ہے۔ جب کہ یہ دعویٰ حقیقت سے کہیں بعید ہے۔ بین الاقوامی کمیونٹی اس چیز سے بخوبی آگاہ ہے کہ پاکستان دہشت گردی کا مرکز ہے۔

7- پاکستانی وزیر اعظم کی جانب سے دہشت گرد حملے کا تعلق آئندہ ہونے والے انتخابات کے نتائج سے جوڑنا قابل افسوس ہے۔ بھارت کی جمہوریت دنیا بھر کے لیے ایک مثال ہے جو پاکستان کبھی نہیں سمجھے گا۔ ہم پاکستان سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی برادری کو گمراہ کرنا بند کرے اور اپنے کنڑول کے علاقوں میں پلوامہ حملے کا ارتکاب کرنے والوں، دوسرے دہشت گردوں اور دہشت گرد گروپس کے خلاف واضح کارروائی کرے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG