رسائی کے لنکس

logo-print

جارجیا: صدر ٹرمپ کی ری پبلکن سینیٹرز کے حق میں انتخابی ریلی


صدر ٹرمپ نے دورے کے دوران صدارتی انتخابات میں ہونے والی دھاندلی سے متعلق الزامات کو دھرایا۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو ریاست جارجیا سے سینیٹ کی دو نشستوں پر جنوری میں ہونے والے انتخابات کے لیے ری پبلکن اُمیدواروں کی انتخابی مہم میں حصہ لیا۔

اس موقع پر ریلی سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے تین نومبر کے صدارتی انتخابات میں ایک بار پھر دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ مخالفین جارجیا میں سینیٹ انتخابات میں بھی دھاندلی کی کوشش کر رہے ہیں۔

جارجیا میں تین نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں سینیٹ کی دونوں نشستوں پر کسی امیدوار کو اکثریت نہیں ملی تھی جس کی وجہ سے ان نشستوں پر دوسرے مرحلے میں ووٹنگ پانچ جنوری کو ہوگی۔

اب تک کے نتائج کے مطابق ری پبلکن پارٹی نے سینیٹ کی 100 میں سے 50 نشستیں حاصل کر لی ہیں۔ ڈیمو کریٹک پارٹی کے پاس 46 نشستیں ہیں جب کہ دو آزاد امیدوار ہیں جو کہ ممکنہ طور پر ڈیموکریٹس کی حمایت کریں گے۔

پانچ جنوری کو ہونے والے انتخابات میں اگر ڈیموکریٹس دونوں نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو سینیٹ میں دونوں جماعتوں کی حمایت میں نشستوں کی تعداد 50،50 ہو جائے گی۔

امریکی آئین کے مطابق اگر سینیٹ میں دونوں جماعتوں کی نشستیں برابر ہو جائیں تو نائب صدر کا ووٹ فیصلہ کن ہوتا ہے۔

امریکی سینیٹ میں اکثریت کس جماعت کی ہوگی؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:45 0:00

صدر ٹرمپ کا ریلی سے خطاب میں مزید کہنا تھا کہ "وہ جانتے ہیں کہ وہ جارجیا میں جیتیں ہیں اور آپ لوگوں کو بھی اس کا ادراک ہے۔"

خیال رہے کہ نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن ریاست جارجیا سے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق لگ بھگ 12 ہزار ووٹوں کی برتری سے جیت چکے ہیں۔ وہ 1992 کے بعد پہلے ڈیمو کریٹک اُمیدوار تھے جنہیں جارجیا سے کامیابی ملی۔

لیکن صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم نے جمعے کو جارجیا سے بھی نو منتخب صدر بائیڈن کی کامیابی کو عدالت میں چیلنج کر دیا ہے۔

ٹرمپ کی صدارتی مہم کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ عدالت میں جمع کرائی گئی درخواست میں جارجیا کے شہریوں کے بیانات کو بنیاد بنایا گیا ہے۔

نو منتخب صدر جو بائیڈن کو صدارتی انتخابات میں صدر ٹرمپ کے 232 کے مقابلے میں 306 الیکٹورل ووٹوں سے فیصلہ کن برتری حاصل ہوئی ہے جب کہ انہیں 270 الیکٹورل ووٹ درکار تھے۔

جارجیا میں دو قدامت پسند ری پبلکن سیاست دان ڈیوڈ پرڈو اور کیلی لوفلر اس وقت دو سیٹوں پر فائض ہیں۔ لیکن تین نومبر کے انتخابات میں دونوں ہی واضح برتری حاصل نہ کر سکے جس کے بعد اب ان دو سیٹوں پر دوبارہ مقابلے ہوں گے۔

سینیٹر پرڈو کے مدِ مقابل ڈیموکریٹک جان اوسوف ہیں، جو ایک صحافی ہیں۔ انہیں 2018 میں ایوانِ نمائندگان کے مقابلے میں ایک سخت مقابلے کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

صدر ٹرمپ نے صدارتی انتخابات کے بعد ہونے والی پہلی تقریب کے دوران حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ وہ جارجیا میں جیتیں ہیں اور لوگ یہ سمجھ سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے صدارتی انتخابات کے بعد ہونے والی پہلی تقریب کے دوران حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ وہ جارجیا میں جیتیں ہیں اور لوگ یہ سمجھ سکتے ہیں۔

ریاست کی دوسری سیٹ کے لیے موجودہ سینیٹر لوفلر کا مقابلہ ترقی پسند ڈیموکریٹ رافیل وارنک سے ہو گا۔ رافیل وارنک اٹلانٹا شہر کے ایک گرجا گھر میں پاسٹر ہیں اور گزشتہ ہفتے ہونے والے الیکشن میں وہ سب سے زیادہ ووٹ لے کر تمام امیدواروں سے آگے رہے۔

ریاست جارجیا کی ایک بھی سیٹ جیتنے کی صورت میں ری پبلکن پارٹی اپنی ایوان میں اکثریت کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جائے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG