رسائی کے لنکس

logo-print

پرائمری انتخابات میں ڈونالڈ ٹرمپ اور ہیلری کلنٹن کی سبقت برقرار


ٹرمپ اور کروز نے دوسرے ریپبلکن امیدوارں سے کہا ہے کہ وہ نامزدگی کی دوڑ سے دست بردار ہو جائیں تاکہ وہ دونوں ایک دوسرے کا مقابلہ کر سکیں۔

امریکہ کے صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک اور ریپبلکنز جماعتوں کی طرف سے نامزدگی حاصل کرنے کے لیے ہفتے کو ہوئے مقابلوں میں ڈیموکریٹ ہلری کلنٹن اور ریبپلکن ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اپنے حریفوں پر سبقت برقرار رکھی ہے۔

ہفتے کو ریپبلکنز جماعت کے چار ریاستوں میں پرائمری یا کاؤکسز کے انتخابات ہوئے جن میں ان کے سرکردہ رہنما ڈونلڈ ٹرمپ کو لوزیانا اور کنٹکی میں کامیابی حاصل ہوئی جبکہ سینیٹر ٹیڈ کروز کو دوسری دو ریاستوں میئن اور کنساس میں جیت ہوئی۔ سینیٹر مارکو روبیو اور آئیوا کے گورنر جان کاسیچ کی ان چاروں ریاستوں میں بھی بہتر کارکردگی نہ دکھا سکے۔

کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ تازہ مقابلوں میں اندازوں کے برعکس کروز نے مجموعی طور پر ٹرمپ کے مقابلے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور جہاں سے وہ ہارے وہاں انہوں نے ٹرمپ کا سخت مقابلہ کیا اور ہفتے کو کروز نے ٹرمپ کے مقابلے میں زیادہ ڈیلیگیٹس کی حمایت حاصل کی۔

دوسری طرف ڈیموکریٹک پارٹی نے ہفتےکو تین ریاستوں میں پرائمری یا کاکسز منعقد کیے جس میں ہلری کلنٹن نے لوزیانا کی ریاست میں کامیابی حاصل کر کے اپنی برتری برقرار رکھی ہے جبکہ ان کے حریف سینیٹر برنی سینڈرز کو دوسری دو ریاستوں کنساس اور نیبراسکا میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

ریپبلکنز جماعت کی طرف سے اب تک ہوئے مقابلوں میں ٹرمپ کو مجموعی طور پر 378 ڈیلیگیٹس کی حمایت حاصل ہو چکی ہے جبکہ ان کے قریب ترین حریف کروز کو 295 کی حمایت حاصل ہے۔

ٹرمپ اور کروز نے ریپبلکنز جماعت کے دوسرے امیدوارں سے کہا ہے کہ وہ نامزدگی کی دوڑ سے دست بردار ہو جائیں تاکہ وہ دونوں ایک دوسرے کا مقابلہ کر سکیں۔

دوسری طرف ڈیموکریٹک جماعت کے ہفتے کو ہوئے پرائمری یا کاکسز میں سینڈرز کی جیت کے باوجود ہلری کو ان پر بہت زیادہ سبقت حاصل ہے اور ان کے ڈیلیگیٹس کی مجوعی تعداد 1,121 ہے جبکہ سینڈرز کے ڈیلیگیٹس کی تعداد 479 ہے۔ ہلری اور سینڈرز کے درمیان اب براہ راست ڈیبیٹ فلنٹ مشی گن میں ہو گی اور یہ ان کے درمیان ساتویں ڈیبیٹ ہو گی۔

XS
SM
MD
LG