رسائی کے لنکس

logo-print

صدارتی نامزدگی کی دوڑ میں ٹرمپ، ہیلری کو سبقت حاصل: سروے


’سی این این/او آر سی‘ نے کہا ہے کہ ریپبلیکن پارٹی کے 49 فی صد ووٹر ٹرمپ کے حامی ہیں، جو اُس مجموعی تعداد سے بھی زیادہ ہے جو میدان میں موجود پارٹی کے باقی چاروں امیدواروں کو حاصل ہے

ایک نئے امریکی سیاسی تجزئے سے پتا چلتا ہے کہ جائیداد کے کاروبار سے وابستہ ارب پتی، ڈونالڈ ٹرمپ نے ریپبیلکن پارٹی کی صدارتی نامزدگی کی دوڑ میں سرفہرست حیثیت کرلی ہے، جب کہ ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن مضبوط امیدوار بن کر سامنے آئی ہیں۔

’سی این این/او آر سی‘ نے کہا ہے کہ ریپبلیکن پارٹی کے 49 فی صد ووٹر ٹرمپ کے حامی ہیں، جو اُس تعداد سے بھی زیادہ ہے جو میدان میں موجود پارٹی کے باقی چاروں امیدواروں کی مجموعی مقبولیت سے زیادہ ہے۔ اُن کے قریب ترین مخالف، فلوریڈا کے سینیٹر مارکو روبیو کو 16 فی صد جب کہ ٹیکساس کے سینیٹر ٹیڈ کروز کو 15 فی صد کی حمایت حاصل ہے۔

سروے سے پتا چلتا ہے کہ ڈیموکریٹک دوڑ میں سنہ 2009 سے 2013ء کے دوران ملک کی چوٹی کی سفارتکار ہیلری کلنٹن کو اپنے واحد مخالف، ورمونٹ سے ڈیموکریٹک سوشلسٹ سینیٹر برنی سینڈرز کو بالترتیب 55 اور 38 فی صد کی حمایت حاصل ہے۔

ریپبلیکن اور ڈیموکریٹ پارٹیاں منگل کو 11 ریاستوں میں نامزدگی کے مقابلے کرا رہی ہیں، جو کئی ماہ سے جاری صدارتی مہم کا اہم ترین انتخابی دِن ہوگا۔

خودساختہ ’سوپر ٹیوزڈے‘ کے دوران، ٹرمپ کو 10 ریاستوں میں سبقت حاصل ہے، ماسوائے ٹیکساس کی جنوب مغربی ریاست کے جہاں کروز کو میدان مارنے کی توقع ہے۔

ادھر، ہیلری کلنٹن کو امید ہے کہ سینڈرز کے خلاف مقابلے میں اُنھیں اکثریت کی حامل ملے گی۔ سینڈرز نے ملک میں آمدن کی بڑھتی ہوئی عدم مساوات اور وال اسٹریٹ کے بڑے اداروں کے اثر و رسوخ کے خلاف مہم چلائی ہے۔

ریپبلیکن پارٹی کی صدارتی نامزدگی کی مہم کے دوران ایک دوسرے پر حملے اوربرا بھلا کہنے کا زور رہا ہے، روبیو اور ٹرمپ نے ایک دوسرے کے جسمانی انداز پر ناشائستہ حملے کیے ہیں۔ ٹرمپ اکثر فلوریڈا کے قانون ساز کو ’لٹل مارکو روبیو‘ کہہ کر پکارتے ہیں، جو، بقول اُن کے، اپنے چھوٹے کانوں کو ڈھانپنے کے لیے میک اپ کا سہارا لیتے ہیں، اور یہ کہ وہ ’’کتے پکڑ‘‘ سکتے ہیں۔ اتوار کے روز روبیو نے ٹرمپ کے ’’چھوٹے ہاتھوں‘‘ کا ذکر کیا، جب کہ بقول اُن کے، وہ اپنے چہرے کی رونق بڑھانے کے لیے ’’خراب اسپرے‘‘ کرتے ہیں۔

حالیہ دِنوں کے دوران، روبیو نے ربیو کو ’’کون آرٹسٹ‘‘ قرار دیا ہے جو ریپبلیکن پارٹی کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہین۔

اسٹیبلش منٹ سے تعلق رکھنے والی شخصیات، جن میں سے کئی ایک نے روبیو کی حمایت کی ہے، عہد کیا ہے کہ وہ ٹرمپ کی حمایت نہیں کریں گے، اُنھیں فکر لاحق ہے کہ نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں ہیلری کلنٹن کو شکست نہیں دے پائیں گے؛ اور یہ کہ کانگریس میں ریپبلیکن پارٹی کو بہت نقصان اٹھانا پڑے گا، جب کہ سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان میں اُنھیں اب کنٹرول حاصل ہے۔

ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے، روبیو نے کہا کہ ’’یاد رکھیں، دوستو اِس کون آرٹسٹ کو ووٹ نہ دینا‘‘۔

روبیو نے اتوار کے دِن ’سی این این نیوز شو‘ میں ٹرمپ کی جانب سے شرکت سے معذرت کا ذکر کیا، جس کا مقصد نسل پرست ’کو کلکس کلان‘ کے سابق رہنما، ڈیوڈ ڈیوک کی حمایت کی پیش کش سے انکار کرناتھا۔ حالانکہ اُنھوں نے اتوار کے روز سوالات کے واضح جواب دیے، ٹرمپ نے پیر کے دِن دعویٰ کیا کہ ٹیلی ویژن نیٹ ورک نے اُنھیں سننے کا بیکار آلا لگایا جس سے اُنھیں سوالات سننے میں دقت محسوس ہورہی تھی۔

ٹرمپ نے کہا کہ اُنھوں نے ’’ہفتے بھر سے‘‘ ڈیوک کی حمایت سے انکار کر رکھا ہے۔

منگل کے روز ہونے والی ووٹنگ میں، روبیو کو کسی بھی ریاست سے جیٹ کی توقع نہیں، برعکس اس کے وہ جولائی میں قومی صدارتی نامزدگی کے کنوینشن کے دوران ڈیلیگیٹس کی حمایت پر تکیہ کیے ہوئے ہیں۔ اُنھیں مارچ 15 کو فلوریڈا میں ’ونر ٹیک آل‘ مقابلے میں نامزدگی کی پہلی جیت کی امید ہے، جو جنوب مشرقی امریکہ میں اُن کی آبائی ریاست ہے۔

کروز متنبہ کر رہے ہیں کہ ٹرمپ کی ریل گاڑی کو روکنا ممکن نہ ہوگا اگر وہ منگل کے روز بڑی فتح سے ہمکنار ہوتے ہیں۔ کروز بارہا اپنے ووٹروں سے کہہ چکے ہیں کہ اُنھوں نے ہی اب تک ٹرمپ کو ایک بار شکست دی ہے، جب آئیووا کے پہلے کاؤکس کےدوران سبقت حاصل کی؛ حالانکہ، بعد ازاں ٹرمپ نے دیگر تین ریاستوں میں ہونے والے مقابلوں میں فتح حاصل کی۔

XS
SM
MD
LG