رسائی کے لنکس

صدر کینیڈی کے قتل کی سینکڑوں فائلوں کا اجرا روک دیا گیا


22 نومبر 1963ء کو لی گئی صدر کینیڈی کے قافلے کی تصویر جس کے چند لمحوں بعد ہی وہ قاتلانہ حملے میں مارے گئے تھے

وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ان میں سے بیشتر فائلوں کو عام نہ کرنے کی سفارش دو اداروں – سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) اور فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) – نے کی ہے۔

امریکہ کے سابق صدر جان ایف کینیڈی کے قتل اور اس کی تحقیقات سے متعلق سیکڑوں خفیہ فائلیں عوام کے لیے جاری کردی گئی ہیں لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بعض دیگر فائلوں کا اجرا روک دیا ہے۔

جمعرات کی شام وفاقی اداروں کے سربراہان کے نام جاری کیے جانے والے ایک حکم نامے میں صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ خفیہ سرکاری فائلوں کو عام کرنے کا حکم دے رہے ہیں۔

تاہم اسی حکم نامے میں صدر نے کہا ہے کہ اس معاملے سے متعلق بعض فائلیں فی الحال عام نہیں کی جارہیں کیوں کہ ان کے بقول بعض اداروں نے قومی سلامتی کے مفاد میں بعض فائلوں کو جاری نہ کرنے کی سفارش کی ہے جسے ان کے بقول "ماننے کے سوا ان کے پاس اور کوئی راستہ نہیں۔"

وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ان میں سے بیشتر فائلوں کو عام نہ کرنے کی سفارش دو اداروں – سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) اور فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) – نے کی ہے۔

کیس سے متعلق دیگر فائلیں واشنگٹن ڈی سی کے وقت کے مطابق جمعرات کی شب آٹھ بجے عوام کے لیے جاری کردی گئیں۔

حکام نے بدھ کو صحافیوں کو بتایا تھا کہ امریکہ کے سرکاری اور تاریخی دستاویزات کا نگران ادارہ 'نیشنل آرکائیوز' صدر کینیڈی کے قتل سے متعلق 2800 دستاویزات جاری کر رہا ہے جو اس سے پہلے خفیہ تھیں۔

یہ دستاویزات 50 لاکھ سے زائد صفحات پر مشتمل ہیں جو 1992ء کے 'پریزیڈنٹ جان ایف کینیڈی اسیسی نیشن ریکارڈز کلیکشن ایکٹ' کے تحت جاری کی گئی ہیں۔

صدر کینیڈی کے قتل سے متعلق بیشتر سرکاری مواد پہلے ہی جاری کیا جاچکا ہے لیکن ان فائلوں کو 1990ء کی دہائی میں کانگریس کی جانب سے تشکیل دیے جانے والے ایک ریویو بورڈ نے قومی سلامتی اور تحقیقات سے غیر متعلق ہونے کی بنیاد پر 25 سال تک عوام کے لیے جاری کرنے سے روک دیا تھا۔

حکام کے مطابق صدر ٹرمپ نے فائلیں جاری نہ کرنے کی سفارش کرنے والے اداروں کو 180 دن میں وضاحت پیش کرنے کا حکم دیا ہے کہ انہوں نے کن بنیادوں پر دستاویزات روکنے کی سفارش کی ہے۔

جمعرات کو جاری کیے جانے والے اپنے حکم نامے میں صدر ٹرمپ نےکہا ہے کہ وہ 180 دن کی مدت گزرنے کے بعد ان فائلوں کو بھی عوام کے لیے جاری کرنے کا حکم دے دیں گے جن کے بارے میں امریکی ادارے یہ ثابت کرنے میں ناکام رہیں گے کہ انہیں جاری نہ کرنا کیوں ضروری ہے۔

اپنے حکم نامے میں صدر نے کہا ہے کہ جن دستاویزات کو افشا نہیں کیا جارہا ہے انہیں خفیہ رکھنا "فوجی دفاع، انٹیلی جنس کارروائیوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور خارجہ تعلقات کو نقصان پہنچنے سے محفوظ رکھنے" کے لیے ضروری ہے۔

جنوری 1961ء میں اقتدار سنبھالنے والے جان ایف کینیڈی امریکہ کی تاریخ کے مقبول ترین صدور میں سے ایک تھے جنہیں 22 نومبر 1963ء کو ریاست ٹیکساس کے شہر ڈیلس کے دورے کے دوران ایک 24 سالہ سابق امریکی فوجی لی ہاروے آسوالڈ نے گولی مار کر قتل کردیا تھا۔

صدر کینیڈی پر تحقیق کرنے والے ماہرین اور محققین کو ان کے قتل سے متعلق جاری کی جانے والی فائلوں سےاہم معلومات ملنے کی امید ہے۔

کینیڈی کے قاتل لی ہاروے آسوالڈ کا صدر پر قاتلانہ حملے سے دو ماہ قبل میکسیکو کا دورہ کرنے کا معاملہ محققین کی توجہ کا خاص مرکز ہے جس پر آج تک اخفا کے پردے پڑے ہوئے ہیں۔ اپنے اس دورے کے دوران آسوالڈ نے مبینہ طور پر سوویت یونین اور کیوبا کے سفارت خانوں کا دورہ بھی کیا تھا۔

لیکن تاحال یہ واضح نہیں کہ آیا آسوالڈ کے دورۂ میکسیکو سے متعلق تحقیقات کی فائلیں بھی جمعرات کو جاری کی جانے والی دستاویزات میں شامل ہیں یا انہیں بھی قومی سلامتی کے نام پر روک لیا گیا ہے۔

صدر کینیڈی کا قتل امریکہ کی تاریخ کے متنازع اور پراسرار ترین واقعات میں سے ایک ہے۔ قتل کے فوراً ہی بعد کینیڈی کی جگہ اقتدار سنبھالنے والے صدر لنڈن بی جانسن نے سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس ارل وارن کو قتل کی آزادانہ تحقیقات کی ذمہ داری سونپی تھی۔

جسٹس وارن کمیشن نے 10 ماہ کی تحقیقات کے بعد 888 صفحات پر مشتمل اپنی رپورٹ پیش کی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ آسوالڈ نے صدر کینیڈی کو اکیلے ہی قتل کیا تھا اور اسے اس کام میں کسی کی مدد حاصل نہیں تھی۔

آسوالڈ کو پولیس نے موقع پر ہی گرفتار کرلیا تھا۔ لیکن دو دن بعد ہی ایک نائٹ کلب کے مالک جیک روبی نے آسوالڈ کو پولیس کی حراست میں گولی مار کر قتل کردیا تھا۔

جسٹس وارن نے اپنی رپورٹ میں قرار دیا تھا کہ جیک روبی نے بھی آسوالڈ کو قتل کرنے کی واردات کسی کے اکسانے یا مدد کے بغیر تنِ تنہا انجام دی تھی۔

لیکن امریکی شہریوں کی اکثریت ان دونوں دعووں پر یقین نہیں کرتی۔ گیلپ کی جانب سے 2013ء میں کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق امریکی شہریوں کی اکثریت کا خیال ہے کہ صدر کینیڈی کے قتل میں آسوالڈ کے علاوہ بھی لوگ ملوث تھے جن کے نام سامنے نہیں لائے گئے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG