رسائی کے لنکس

logo-print

'اسٹیٹ آف دی یونین' شٹ ڈاؤن کے خاتمے تک مؤخر


صدر ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں ایک اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنا سالانہ 'اسٹیٹ آف دی یونین' خطاب حکومت کے جاری شٹ ڈاؤن کے خاتمے تک مؤخر کرنے پر آمادہ ہوگئے ہیں۔

صدر نے بدھ کی شب ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ وہ کسی متبادل مقام پر 'اسٹیٹ آف دی یونین' خطاب نہیں کریں گے، کیوں کہ کوئی بھی اور جگہ امریکہ کے ایوانِ نمائندگان کی تاریخ، روایات اور اہمیت کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔

اپنے ٹوئٹ میں صدر نے کہا ہے کہ وہ مستقبل قریب میں ایک "عظیم" اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کے منتظر ہیں۔

صدر نے یہ اعلان بدھ کو ایوانِ نمائندگان کی ڈیموکریٹ اسپیکر نینسی پیلوسی کی جانب سے صدر کو دی گئی ایوان سے خطاب کی دعوت منسوخ کرنے کے بعد کیا ہے۔

ہاؤس اسپیکر نے بدھ کو وائٹ ہاؤس کو بھیجے گئے ایک خط میں کہا تھا کہ وہ صدر کو دی گئی اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کی دعوت منسوخ کر رہی ہیں اور صدر کو جاری شٹ ڈاؤن کے خاتمے تک اس خطاب کے لیے مدعو نہیں کیا جائے گا۔

ایوانِ نمائندگان کی ڈیموکریٹ اسپیکر نینسی پیلوسی جنہوں نے بدھ کو صدر کو اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کی دعوت منسوخ کردی تھی۔
ایوانِ نمائندگان کی ڈیموکریٹ اسپیکر نینسی پیلوسی جنہوں نے بدھ کو صدر کو اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کی دعوت منسوخ کردی تھی۔

پیلوسی کے اس اعلان کے بعد وائٹ ہاؤس حکام نے کہا تھا کہ وہ صدر کا یہ اہم خطاب کسی متبادل مقام – بشمول کسی سیاسی جلسے – میں کرانے پر غور کر رہے ہیں۔

'اسٹیٹ آف دی یونین' کیا ہے؟

'اسٹیٹ آف دی یونین' وہ سالانہ خطاب ہے جو امریکہ کے صدر ہر سال کانگریس کے دونوں ایوانوں – سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان – کے مشترکہ اجلاس سے کرتے ہیں۔ اس خطاب میں صدر ملکی و بین الاقوامی صورتِ حال اور قانون سازی سے متعلق اپنی حکومت کی پالیسی اور ترجیحات بیان کرتے ہیں۔

امریکہ کے آئین نے صدر کو پابند کیا ہے کہ وہ کانگریس کو وقتاً فوقتاً ملکی صورتِ حال سے آگاہ کیا کریں۔ لیکن، آئین میں ایسی کوئی شرط نہیں کہ صدر کو لازماً یہ خطاب ہر سال یا کانگریس کے دونوں ایوانوں کے سامنے ہی کرنا چاہیے۔

گزشتہ صدی کے آغاز تک امریکی صدور تحریری طور پر ارکانِ کانگریس کو 'اسٹیٹ آف دی یونین' سے آگاہ کیا کرتے تھے۔

لیکن گزشتہ چند دہائیوں سے امریکی صدور یہ خطاب ایوانِ نمائندگان میں ہونے والے کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے کرنے لگے ہیں جو ٹی وی پر بھی براہِ راست نشر کیا جاتا ہے۔

جاری شٹ ڈاؤن سے امریکہ کی وفاقی حکومت کے کئی محکموں کو اپنی معمول کی سرگرمیاں اور منصوبے بند کرنا پڑے ہیں۔ اس تصویر میں لائبریری آف کانگریس کے باہر بندش کو نوٹس آویزاں ہیں جب کہ پسِ منظر میں کانگریس کی عمارت نظر آرہی ہے۔
جاری شٹ ڈاؤن سے امریکہ کی وفاقی حکومت کے کئی محکموں کو اپنی معمول کی سرگرمیاں اور منصوبے بند کرنا پڑے ہیں۔ اس تصویر میں لائبریری آف کانگریس کے باہر بندش کو نوٹس آویزاں ہیں جب کہ پسِ منظر میں کانگریس کی عمارت نظر آرہی ہے۔

صدر کا کانگریس سے یہ سالانہ خطاب اب امریکی سیاست میں ایک روایت بن چکا ہے اور ٹی وی پر براہِ راست نشر کیے جانے کی وجہ سے اس خطاب کی اہمیت بھی خاصی بڑھ گئی ہے۔

'صدر خطاب ملتوی کردیں'

رواں سال اس خطاب کے لیے 29 جنوری کی تاریخ مقرر کی گئی تھی۔ لیکن میکسیکو کی سرحد کے ساتھ دیوار کی تعمیر پر اختلافات کے باعث 22 دسمبر کو شروع ہونے والے وفاقی حکومت کے جزوی شٹ ڈاؤن کے پیشِ نظر اسپیکر نینسی پیلوسی نے گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ کو ایک خط تحریر کیا تھا جس میں انہوں نے صدر سے اپنا یہ خطاب ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی۔

صدر ٹرمپ نے اسپیکر کی یہ درخواست مسترد کردی تھی اور کہا تھا کہ وہ طے شدہ پروگرام کے مطابق 29جنوری کو ہی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کریں گے۔

صدر کے اس اعلان کے بعد بدھ کو نینسی پیلوسی نے وائٹ ہاؤس کو ایک خط کے ذریعے آگاہ کیا کہ وہ صدر کو پہلے دی گئی اپنی دعوت واپس لے رہی ہیں اور اب ایوانِ نمائندگان شٹ ڈاؤن کے خاتمے تک صدر کو اسٹیٹ آف دی یونین کے لیے مدعو نہیں کرے گا۔

شٹ ڈاؤن سے متاثر وفاقی حکومت کے ملازمین کانگریس کے سامنے احتجاج کر رہے ہیں۔
شٹ ڈاؤن سے متاثر وفاقی حکومت کے ملازمین کانگریس کے سامنے احتجاج کر رہے ہیں۔

اپنے خط میں نینسی پیلوسی نے کہا ہے کہ جب انہوں نے 3 جنوری کو صدر کو اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کی دعوت دی تھی تو ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ شٹ ڈاؤن 29 جنوری تک جاری رہے گا۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے اپنا خطاب مؤخر کرنے پر آمادگی کے بعد اسٹیٹ آف دی یونین پر پیدا ہونے والا بحران تو ٹل گیا ہے، لیکن وفاقی حکومت کے جزوی شٹ ڈاؤن کا تاحال جلد خاتمہ ہوتا نظر نہیں آرہا۔

ایک ماہ سے زائد عرصے سے جاری اس شٹ ڈاؤن سے امریکہ کی وفاقی حکومت کے کئی محکمے بری طرح متاثر ہوئے ہیں جن کے پاس اپنی معمول کی سرگرمیوں اور منصوبوں کے لیے فنڈز ختم ہوگئے ہیں۔

شٹ ڈاؤن سے وفاقی حکومت کے آٹھ لاکھ ملازم بھی متاثر ہوئے ہیں جن میں سے نصف جبری رخصت پر ہیں جب کہ نصف کو بغیر تنخواہوں کے کام کرنا پڑ رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG