رسائی کے لنکس

logo-print

صدر ٹرمپ کی امریکہ میکسیکو سرحد بند کرنے کی دھمکی


میکسیکو کے ساتھ سرحد پر امریکی بارڈر سکیورٹی کے اہلکار تعینات ہیں (فائل فوٹو)

صدر ٹرمپ کا تازہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب وائٹ ہاؤس اور کانگریس میں بجٹ پر اتفاق نہ ہونے کے باعث امریکی حکومت کا شٹ ڈاؤن دوسرے ہفتے میں داخل ہوگیا ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ اگر کانگریس نے سرحد پر دیوار کی تعمیر کے لیے بجٹ میں فنڈز نہ رکھے تو وہ میکسیکو کے ساتھ امریکہ کی پوری سرحد ہی مکمل طور پر بند کردیں گے۔

جمعے کو اپنی کئی ٹوئٹس میں صدر ٹرمپ نے لاطینی امریکہ کے ملکوں – ہنڈوراس، گوئٹے مالا اور ایل سلواڈور – پر غیر قانونی تارکینِ وطن کی امریکہ آمد روکنے کے لیے کچھ نہ کرنے کا الزام بھی لگایا اور دھمکی دی کہ وہ ان تینوں ملکوں کو دی جانے والی تمام امریکی مدد بند کردیں گے۔

اپنے ٹوئٹس میں صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر جاری حکومتی شٹ ڈاؤن کا ذمہ دار ڈیموکریٹس کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انہوں نے دیوار کی تعمیر کے لیے فنڈز نہ دیے اور امریکہ کے "مضحکہ خیز امیگریشن قوانین" کو تبدیل نہ کیا تو وہ امریکہ کی جنوبی سرحد مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہوں گے۔

صدر نے کہا ہے کہ یا تو میکسیکو کی سرحد کے ساتھ دیوار تعمیر ہوگی یا یہ سرحد مکمل طور پر بند کردی جائے گی۔

امریکہ کے محکمۂ تجارت کے حکام کے مطابق میکسیکو اور امریکہ کے درمیان روزانہ ایک ارب 68 کروڑ ڈالر کی تجارت ہوتی ہے اور سرحد کی بندش کا مطلب اس تجارت کو نقصان پہنچانا ہے۔

میکسیکو کے صدر آندرے مینوئل لوپیز نے سرحد کی بندش سے متعلق صدر ٹرمپ کی دھمکی کو امریکی حکومت کا اندرونی معاملہ قرار دیتے ہوئے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے۔

صدر ٹرمپ کا تازہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب وائٹ ہاؤس اور کانگریس میں بجٹ پر اتفاق نہ ہونے کے باعث امریکی حکومت کا شٹ ڈاؤن دوسرے ہفتے میں داخل ہوگیا ہے۔

صدر ٹرمپ کا اصرار ہے کہ کانگریس بجٹ میں میکسیکو کی سرحد کے ساتھ دیوار کی تعمیر کے لیے رقم مختص کرے جو ان کے بقول غیر قانونی تارکینِ وطن کی امریکہ آمد روکنے کے لیے ضروری ہے۔

امریکہ کی جنوبی سرحد پر دیوار کی تعمیر صدر ٹرمپ کا ایک اہم انتخابی وعدہ ہے اور وہ کہہ چکے ہیں کہ وہ اس وقت تک بجٹ پر دستخط نہیں کریں گے جب تک اس میں دیوار کی تعمیر کے لیے پانچ ارب ڈالر نہیں رکھے جائیں گے۔

کئی ارکانِ کانگریس خصوصاً ڈیموکریٹس صدر کو سرحد کی سکیورٹی سخت کرنے کے لیے فنڈز فراہم کرنے پر تو آمادہ ہیں لیکن وہ سرحد پر دیوار کی تعمیر کی مخالفت کر رہے ہیں۔

ابتدائی تخمینے کے مطابق دیوار کی تعمیر پر 23 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔

صدر ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ جب تک انہیں دیوار کے لیے فنڈز نہیں ملیں گے، وہ کانگریس کی جانب سے منظور کردہ کسی بجٹ دستاویز پر دستخط نہیں کریں گے، چاہے کاروبارِ حکومت بند ہی کیوں نہ رہے۔

صدر نے تاحال کوئی ایسا عندیہ بھی نہیں دیا کہ آیا وہ دیوار کی تعمیر کے لیے بجٹ میں پانچ ارب سے کم رقم مختص کرنے پر رضامند ہوں گے یا نہیں۔

بدھ کو ایک صحافی کے اس سوال پر کہ ان کے خیال میں شٹ ڈاؤن کب تک چلے گا، صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ "چاہے جو بھی ہو [یہ چلے گا]۔"

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG