رسائی کے لنکس

شارلٹس ول تنازع، ٹرمپ نے دو مشاورتی کمیٹیاں تحلیل کردیں


فائل

صدر ٹرمپ کی نامزد کردہ دونوں کاؤنسلز امریکہ کی معروف کاروباری شخصیات اور بڑی کمپنیوں کے سربراہان پر مشتمل تھیں جن کا کام صدر کو معاشی اور کاروباری امور پر مشاورت فراہم کرنا تھا۔

امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کاروباری امور سے متعلق اپنی دو مشاورتی کمیٹیوں کے سات ارکان کے استعفوں کے بعد دونوں کمیٹیاں تحلیل کردی ہیں۔

بدھ کو اپنے ایک پیغام میں صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ کاروباری شخصیات پر دباؤ ڈالنے کے بجائے انہیں خداحافظ کہنا زیادہ پسند کرتے ہیں اور اسی لیے وہ ارکان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دونوں کمیٹیاں ختم کر رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی نامزد کردہ دونوں کاؤنسلز امریکہ کی معروف کاروباری شخصیات اور بڑی کمپنیوں کے سربراہان پر مشتمل تھیں جن کا کام صدر کو معاشی اور کاروباری امور پر مشاورت فراہم کرنا تھا۔

لیکن گزشتہ ہفتے امریکی ریاست ورجینیا کے شہر شارلٹس ول میں سفید فام نسل پرستوں کی سرگرمیوں اور صدر ٹرمپ کے مخالفین کے ساتھ ان کے تصادم کی صدر ٹرمپ کی جانب سے مذمت نہ کرنے پر ان دونوں کاؤنسلز کے سات ارکان احتجاجاً مستعفی ہوگئے تھے۔

کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے احتجاج اور جھڑپوں کے دوران نسل پرستی کے حامی ایک شخص نے صدر ٹرمپ کے خلاف مظاہرہ کرنے والے افراد کو اپنی گاڑی سے کچلنے کی کوشش کی تھی جس میں ایک خاتون ہلاک اور 19 افراد زخمی ہوئے تھے۔

صدر ٹرمپ نے سفید فام نسل پرستوں کی کھل کر مذمت کرنے سے احتراض برتا تھا اور کہا تھا کہ شارلٹس ول میں ہونے والے واقعات میں دونوں فریقوں کی جانب سے زیادتی کی گئی تھی۔

صدر کے اس بیان پر امریکہ کے سیاسی اور سماجی حلقے سخت برہم ہیں اور خود صدر کی اپنی جماعت ری پبلکن پارٹی کے کئی رہنما بھی کھل کر ان سے سفید فام نسل پرستوں کی مذمت کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

تاہم صدر ٹرمپ کے موقف کے برعکس ان کی کابینہ کے کئی ارکان نے شارلٹس ول میں نسل پرستی کے مظاہرے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابلِ برداشت قرار دیا ہے۔

بدھ کو واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا کہ ہفتے کو شارلٹس ول میں جس "نفرت اور تشدد" کا مظاہرہ کیا گیا، امریکہ میں اس طرزِ عمل کی کوئی گنجائش نہیں۔

امریکی اٹارنی جنرل جیف سیشنز نے ریاست فلوریڈا کے شہر میامی میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ وہ کسی صورت نسل پرستی، عدم برداشت، تشدد اور اس طرح کی دیگر حرکتوں کا جواز پیش نہیں کرسکتے۔

بدھ کو امریکہ کے دو سابق ری پبلکن صدور جارج ایچ ڈبلیو بش اور ان کے صاحبزادے جارج ڈبلیو بش نے بھی شارلٹس ول میں پیش آنے والے واقعات کی سخت مذمت کی ہے۔

اپنے ایک مشترکہ بیان میں دونوں سابق صدور نے کہا کہ امریکہ ہمیشہ نسل پرستی پر مبنی متعصبانہ رویوں اور نفرت کی ہر شکل کی مذمت کرتا رہے گا۔

امریکی ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر پال رائن نے کہا ہے کہ ہمیں واضح طور پتا ہونا چاہیے کہ سفید فام نسل پرستی ایک ناقابلِ قبول اور امریکی روایات کے برخلاف رویہ ہے جس کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جاسکتا۔

کئی دیگر ری پبلکن اراکینِ کانگریس اور ریاستی گورنروں نے بھی شارلٹس ول میں نسل پرستی کے مظاہرے اور صدر ٹرمپ کی جانب سے اس کی کھل کر مذمت نہ کرنے پر کڑی تنقید کی ہے۔

اس کے برعکس امریکہ میں کالعدم سفید فام نسل پرست تنظیم 'کو کلکس کلین' کے ایک سابق رہنما ڈیوڈ ڈیوک نے صدر ٹرمپ کی "ایمانداری اور جرات" کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے "بائیں بازو کے دہشت گردوں" کی مذمت کرکے سچ بولا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG