رسائی کے لنکس

توقع ہے سعودی عرب بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کر لے گا: ٹرمپ


فائل فوٹو

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امکان ظاہر کیا ہے کہ سعودی عرب بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر لے گا جب کہ سعودی عرب نے کہا ہے کہ فلسطین میں قیامِ امن تک اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم نہیں ہو سکتے۔

صدر ٹرمپ سے بدھ کو وائٹ ہاؤس میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران صحافیوں نے سوال کیا کہ کیا وہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان حال ہی میں ہونے والے معاہدے میں سعودی عرب کی شمولیت کی توقع بھی رکھتے ہیں۔ اس پر صدر نے کہا کہ انہیں اس کی توقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ بہت سے ممالک اس معاہدے کا حصہ بننے جا رہے ہیں اور جب کئی ممالک معاہدے میں شامل ہو جائیں گے تو ایران کو بھی بالآخر معاہدے کا حصہ بننا پڑے گا۔

صدر ٹرمپ کے بقول اسرائیل سے معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کا باعث بنے گا جو کہ خوش آئند ہے۔

تیرہ اگست کو ہونے والے اس معاہدے میں امریکہ نے بطور ثالث کردار ادا کیا تھا۔ معاہدے کے تحت اسرائیل نے مغربی کنارے کے الحاق کے منصوبے کو معطل کرنے پر اتفاق کیا ہے جب کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہو سکیں گے۔

دوسری جانب سعودی عرب کی جانب سے کئی روز کی خاموشی کے بعد بالآخر بدھ کو امارات اسرائیل معاہدے پر ردِ عمل سامنے آگیا ہے۔

سعودی وزیرِ خارجہ فیصل بن فرحان نے فلسطین کے تنازع کے حل تک اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات کے قیام کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔

جرمنی کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام سے قبل عالمی معاہدوں کے تحت فلسطین میں امن قائم ہونا چاہیے۔ ان کے بقول اگر یہ ہو گیا تو کوئی چیز ناممکن نہیں ہے۔

جرمنی میں اپنے ہم منصب ہیکو ماس کے ہمراہ نیوز کانفرنس کے دوران بھی سعودی وزیرِ خارجہ نے اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے میں تعمیرات اور اس کے الحاق سے متعلق یک طرفہ پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے اسرائیل کے اس عمل کو غیر قانونی اور دو ریاستی حل کے فارمولے کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔

اسرائیل-فلسطین تنازع کے حل کی کوششیں

یاد رہے کہ 2002 میں سعودی عرب نے عرب لیگ کی منظوری کے بعد اسرائیل، فلسطین تنازع کے حل کا ایک منصوبہ تجویز کیا تھا۔ منصوبے کے تحت اسرائیل کے زیرِ قبضہ علاقوں سے اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی تجویز دی گئی تھی۔

اس سے قبل امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے بھی الگ فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دیا تھا۔ وہ ایسا اعلان کرنے والے امریکہ کے پہلے صدر تھے۔ انہوں نے اپنی تجویز میں کہا تھا کہ اسرائیل اور فلسطین دو الگ الگ ریاستیں ہوں گی تاکہ خطے میں امن کا قیام یقینی بنایا جا سکے۔

اسرائیل فلسطین تنازع کے حل کے لیے 2007، 2009 اور 2013 میں بھی امریکہ اور یورپی ممالک کی معاونت سے کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ تاہم فریقین کے درمیان اختلافات کی وجہ سے یہ کوششیں بار آور نہ ہو سکیں۔

امریکہ کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تنازع کے حل کے لیے گزشتہ برس ایک منصوبے کا اعلان کیا تھا جس کے روحِ رواں اُن کے داماد جیرڈ کشنر تھے۔

اس منصوبے کے تحت اُنہوں نے فلسطین اور ہمسایہ عرب ملکوں کی معاشی ترقی کے لیے 50 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا۔ لیکن فلسطینی رہنماؤں نے اس منصوبے کو مسترد کر دیا تھا۔

بیشتر عرب ملکوں کا اصرار رہا ہے کہ اسرائیل فلسطین تنازع کے حل کے لیے تجویز کردہ تمام منصوبوں میں سے بہتر حل 2002 میں سعودی عرب کی جانب سے پیش کیا گیا منصوبہ ہے۔ لہذٰا فریقین کو اس پر متفق ہونا چاہیے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG