رسائی کے لنکس

logo-print

جج کی جانب سے سرزنش کے بعد مائیکل فلن کا فیصلہ مؤخر


واشنگٹن میں ایک امریکی جج نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے قومی سلامتی کے پہلے مشیر مائیکل فلن کی سختی سے سرزنش کی ہے، جنھوں نے 2017ء کے اوائل میں جب ٹرمپ نے اقتدار سنبھالا، اُس سے چند ہفتے قبل روس کے اپنے رابطوں کے بارے میں تفتیش کاروں کے ساتھ غلط بیانی سے کام لیا۔ تاہم، اُنھوں نے فیصلہ سنانے میں تاخیر کر دی ہے۔

فلن کے رویے کے بارے میں امریکی ضلعی جج، ایمت سلیوان نے کہا کہ ’’میں اپنی مایوسی اور اپنی حقارت نہیں چھپا سکتا‘‘۔ بعدازاں، اُنھوں نے فلن کے وکلاٴ کی یہ درخواست مان لی کہ فیصلہ سنانے میں تاخیر کی جائے۔

فلن نے سلیوان کے سامنے تسلیم کیا کہ ’’میں اس سے آگاہ تھا‘‘ کہ تفتیش کاروں سے دروغ گوئی جرم کے زمرے میں آتی ہے، جب اُنھوں نے اُن سے پوچھا کہ اُنھوں نے اُس وقت کے امریکہ میں روسی سفیر، سرگئی کسلیاک کے ساتھ کیا بات کی۔

جج نے فلن سے کہا کہ اُن کا جرم ’’انتہائی سنگین ہے‘‘ اور ’’یہ کہا جاسکتا ہے کہ آپ نے اپنے ملک کو بیچ دیا‘‘۔

اسپیشل کونسل رابرٹ موئلر نے سفارش کی تھی کہ 60 برس کے فلن کو قید کی سزا نہ دی جائے، چونکہ اُنھوں نے 19 ماہ سے جاری چھان بین کے دوران تفتیش کاروں کے ساتھ ’’خاصا‘‘ تعاون کیا۔ وہ فوج کے ریٹائرڈ جنرل رہ چکے ہیں اور کسی وقت ملک کے دفاعی انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ تھے۔

اُن سے اس بارے میں تفتیش جاری رہی ہے کہ ٹرمپ کی 2016ء کی انتخابی مہم کے دوران اُنھوں نے روس کے ساتھ کیا روابط جاری رکھے، اور صدر کے طور پر چھان بین میں خلل ڈال کر ٹرمپ نے انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالی۔

اس سے قبل، ایسے میں جب منگل کے روز قومی سلامتی کے سابق مشیر مائیکل فلن کے خلاف فیصلہ آنے والا تھا، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے، اُن کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اُن پر الزام ہے کہ 2017ءکے اوائل میں جب ٹرمپ نے عہدہ سنبھالا تفتیش کاروں کی جانب سے پوچھ گچھ کے دوران فلن نے غلط بیانی سےکام لیا تھا۔

ٹرمپ نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’’یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ اپنے اوپر بے انتہا دباؤ کے باوجود، روسی گٹھ جوڑ کے معاملے پر وہ کیا کہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ وہ وقت تھا جب بہت ہی کامیاب انتخابی مہم جاری تھی‘‘۔ ’’کوئی گٹھ جوڑ نہیں تھا!‘‘۔

نئی انتظامیہ کے تشکیل پانے کے بعد فلن ایک ماہ سے کچھ ہی کم عرصے تک ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر رہے۔ لیکن، اُنھیں عہدے سے فارغ کیا گیا۔

ثبوت یہ سامنے آیا کہ اُس وقت واشنگٹن میں روس کے سفیر سرگئی کسلیاک کے ساتھ اپنے رابطوں کے بارے میں فلن نے نائب صدر مائیک پینس اور دیگر حکام کے ساتھ غلط بیانی سے کام لیا۔ یہ وہ دور تھا جب نومبر 2016ء میں ٹرمپ منتخب ہوچکے تھے اور 20جنوری 2017ء میں اُنھوں نے صدر کا عہدہ سنبھالا۔

سال 2016 کی انتخابی مہم کے دوران، فلن ٹرمپ کی سیاسی ریلیوں کے انتظامات کیا کرتے تھے، اور اکثر وہ ڈیموکریٹک پارٹی کی مدِ مقابل امیدوار سابق امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔

ریپبلیکن نیشنل کنوینشن، جس میں ٹرمپ 2016ء کے انتخابات کے لیے پارٹی کے امیدوار منتخب ہوئے، فلن ٹرمپ کے اُن ہزاروں حامیوں میں شامل تھے جنھوں نے کلنٹن کے خلاف نعرے لگائے۔ ’’اِنہیں بند کردو۔ بند کردو‘‘۔ چونکہ اُنھوں نے نجی اِی میل سرور استعمال کیا تھا، جب وہ ملک کے اعلیٰ ترین سفارت کار کے عہدے پر فائز تھیں۔

ایک سال قبل اقبال جرم کے بعد، فلن کی موئلر کے تفتیش کاروں سے وسیع ملاقاتیں ہوئیں۔

ٹرمپ کے انتخاب کے دو روز بعد، سابق صدر اوباما نے ٹرمپ کو متنبہ کیا تھا کہ فلن کی خدمات حاصل نہ کی جائیں، لیکن ٹرمپ نے مشورے کو اہمیت نہیں دیتے ہوئے اُنھیں قومی سلامتی کا مشیر مقرر کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG