رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ میں صدر کا مواخذہ کیسے ہوتا ہے؟


صدر ٹرمپ کا مواخذہ کرنے کے حق میں مظاہرہ۔ فائل فوٹو

امریکہ میں کانگریس کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ایک خاص عمل کے ذریعے عہدے پر موجود صدر کو برطرف کر سکتی ہے۔ یہ عمل یا طریقہ کار جسے مواخذہ کہا جاتا ہے، ایوان کو صدر کی نگرانی کا اختیار دیتا ہے۔

تاہم، مواخذے کا عمل کئی مراحل سے ہو کر گزرتا ہے اور اس دوران صدر یا مواخذے کی کارروائی کی زد میں آنے والے وفاقی عہدے دار کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے دفاع میں وکیل اور شہادتیں پیش کر سکے۔

امریکہ کی تاریخ میں آج تک کسی صدر کو مواخذے کے ذریعے وائٹ ہاؤس سے نکالا نہیں جا سکا، ماسوائے صدر رچرڈ نکسن کے، جنہوں نے اپنے خلاف مواخذے کا سامنا کرنے کے بجائے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔

منگل کے روز ہاؤس اسپیکر نینسی پیلوسی نے اعلان کیا کہ ہاؤس کے ارکان صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی باضابطہ کارروائی شروع کر رہے ہیں۔

مواخذے کا اختیار کس کے پاس ہے؟

کانگریس کو مواخذے کا اختیار امریکہ کا آئین دیتا ہے۔ مواخذے کی اصطلاح عموماً کسی شخص کو اس کے عہدے سے نکالنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے، جب کہ حقیقتاً اس سے مراد باضابطہ تبدیلیاں کرنا ہے۔

جب ایوان سے مواخذے کا عمل مکمل ہو جاتا ہے تو پھر سینیٹ کا کام شروع ہوتا ہے۔ سینیٹ کے ارکان یہ فیصلہ کرنے کے لیے صدر یا کسی دوسرے عہدے دار پر عائد کردہ الزامات کی سماعت کرتے ہیں آیا انہیں اپنے عہدے سے برطرف کرنا اور مستقبل میں وفاقی عہدہ حاصل کرنے سے روک دینا چاہیے۔

اب تک کتنے عہدے داروں کا مواخذہ ہوا ہے؟

امریکی ایوان نمائندگان اب تک 19 افراد کے خلاف مواخذہ کر چکا ہیں جن میں اکثریت وفاقی ججوں کی تھی، جب کہ ان 19 افراد میں دو صدور اینڈریو جانسن اور بل کلنٹن بھی شامل تھے۔ لیکن سینیٹ نے انہیں اپنے عہدے سے برطرف کرنے کی منظوری نہیں دی۔

امریکہ میں صدر کا مواخذہ کیسے کیا جاتا ہے؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:15 0:00

مواخذے کا عمل کس طرح شروع ہوتا ہے؟

ایوان نمائندگان کا کوئی بھی رکن ایک قرار داد کے ذریعے مواخذے کی کارروائی کی شروعات کر سکتا ہے۔ قرار داد آنے کے بعد اسے ایوان کی عدالتی کمیٹی میں بھیج دیا جاتا ہے جس کے ارکان یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ قرار داد میں عائد کردہ الزامات کی تحقیقات کی جانی چاہیئں یا نہیں۔ اگر جوڈیشری کمیٹی الزامات کی تفتیش کا فیصلہ کرتی ہے تو اس کے بعد کمیٹی کے ارکان اپنے ووٹ کے ذریعے یہ طے کرتے ہیں کہ آیا الزامات میں اتنا وزن ہے کہ انہیں مواخذے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ اگر فیصلہ ’ہاں‘ میں آتا ہے تو اسے ایوان کی جانب سے مواخذے کے لیے ایک یا ایک سے زیادہ الزامات کی دستاویز تصور کیا جاتا ہے۔

کن الزامات پر مواخذہ کیا جا سکتا ہے؟

کانگریس کی جانب سے تین ایسی چیزوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو مواخذے کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ مالی فوائد کے لیے سرکاری عہدے کا غلط استعمال، اپنے اختیارات کا غلط یا غیر مناسب استعمال اور غیر اخلاقی کاموں پر بھی صدر کا مواخذہ کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، صدر کا مواخذہ کانگریس کی جانب سے ایک سیاسی سزا تصور کی جاتی ہے نہ کہ کسی جرم کی سزا۔

جب ایوان کی جوڈیشری کمیٹی مواخذے کی قرارداد کے حق میں فیصلہ دیتی ہے تو ایوان میں اس پر ووٹنگ کرائی جاتی ہے۔ ایوان میں موجود ارکان کی سادہ اکثریت قرار داد کی منظوری دے سکتی ہے۔ اگر مواخذے کی قرارداد منظور ہو جاتی ہے تو ایوان کی جانب سے سینیٹ میں کارروائی کے لیے پراسیکیوٹر مقرر کیا جاتا ہے۔

بوسٹن میں ایک سرگرم کارکن مواخذے کا بینر لہرا رہا ہے۔ فائل فوٹو
بوسٹن میں ایک سرگرم کارکن مواخذے کا بینر لہرا رہا ہے۔ فائل فوٹو

مواخذے کی کارروائی کس طرح چلائی جاتی ہے؟

جب ایوان کسی صدر کے مواخذے کی منظوری دے دیتا ہے تو سپریم کورٹ کا چیف جسٹس سینیٹ میں مواخذے کی کارروائی کی صدارت کرتا ہے۔ صدر یا کوئی بھی وفاقی عہدے دار جس کے خلاف مواخذہ کیا جا رہا ہو، اپنے دفاع میں وکیل پیش کر سکتا ہے، اور اس کارروائی کے دوران دونوں فریق گواہوں کو طلب کر سکتے ہیں۔ سینیٹ کے ارکان بند کمرے کے اجلاس میں اس معاملے پر غور و خوض کرتے ہیں۔

اس کے بعد سینیٹ کے ایک کھلے اجلاس میں قراردار پر ووٹنگ کرائی جاتی ہے۔ مواخذے کی منظوری کے لیے سینیٹ کے دو تہائی ووٹ درکار ہوتے ہیں۔ اگر سینیٹ مواخذے کے حق میں ووٹ دیتی ہے تو صدر فوری طور پر اپنے عہدے سے برطرف ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد سینیٹ اس بارے میں بھی ووٹنگ کر سکتی ہے آیا صدر کو مستقبل میں بھی وفاقی عہدہ حاصل کرنے سے روک دیا جائے۔ اس شق کی منظوری کے لیے سینیٹ کی صرف سادہ اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG