رسائی کے لنکس

logo-print

’فرانس اتحادی فوجوں کی قربانیوں کو فراموش نہیں کرے گا‘


صدر ٹرمپ اور فرانسیسی صدر میکرون نارمنڈی کے ساحل پر ڈی ڈے کے موقع پر ہونے والی ایک خصوصی تقریب میں۔ 6 جون 2019

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور برطانوی وزیر اعظم تھیریسا مے نے فرانس کے علاقے نارمنڈی کی 50 میل لمبی ساحلی پٹی پر ’آپریشن ڈی ڈے‘ کی 75 ویں برسی کے موقع پر منعقد ہونے والی متعدد تقریبات میں شرکت کی۔

اس موقع پر فرانس کے صدر امینوئل میکرون نے کہا کہ فرانس کو نازی جرمنی کے قبضے سے آزاد کرانے کے سلسلے میں اتحادی فوجوں کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔

امریکی صدر ٹرمپ، فرنسیسی صدر میکرون اور ان کی بیگمات کو آپریشن کے بارے میں بریفنگ دی جا رہی ہے
امریکی صدر ٹرمپ، فرنسیسی صدر میکرون اور ان کی بیگمات کو آپریشن کے بارے میں بریفنگ دی جا رہی ہے

’آپریشن ڈی دے ‘ دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کا نقطہ آغاز ثابت ہوا تھا جس میں اتحادی فوجوں کے ایک لاکھ 60 ہزار فوجی نارمنڈی کی ساحلی پٹی کے مختلف مقامات پر اترے۔ ان میں سے امریکی فوجی یوٹا اور اوماہا کے ساحل پر، برطانوی فوجی گولڈ اور سورڈ کے ساحل پر اور کنیڈین فوجی جونو کے ساحل پر اترے۔

اس آپریشن کے دوران جرمن فوجوں نے شدید جوابی کارروائیاں کیں اور بالآخر جب جرمن فوجیں پسپائی پر مجبور ہو گئیں تو اس وقت تک چار لاکھ 25 ہزار سے زائد فوجی ہلاک، زخمی یا لاپتا ہو چکے تھے، جب کہ دو لاکھ کے لگ بھگ جرمن فوجیوں کو جنگی قیدی بنایا جا چکا تھا۔

اس جنگ میں ہلاک ہونے والے درجنوں امریکی فوجیوں کی یادگار قبریں اوماہا کے ساحل پر موجود ہیں۔ یہاں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں فرانسیسی صدر میکرون نے پانچ سابق امریکی فوجیوں کو فرانس کا سب سے بڑا سول اعزاز دیا اور انہیں گرمجوشی کے ساتھ گلے لگایا۔ ان میں 94 سالہ پرائیویٹ رسل پیکیٹ بھی شامل تھے جو وھیل چیئر پر وہاں موجود تھے۔

آپریشن ڈی ڈے میں حصہ لینے والے ایک سابق فوجی
آپریشن ڈی ڈے میں حصہ لینے والے ایک سابق فوجی

نارمنڈی کے ساحلوں پر اتحادی قوتوں کی طرف سے فوجیں اتارنے کے آپریشن کی تیاری کئی ماہ تک جاری رہی جسے ہٹلر اور اس کی فوجوں سے خفیہ رکھا گیا۔ رات کی تاریکی میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد فوجی نازی جرمن فوجوں کی ساحلی صفوں کے پیچھے اتار دیے گئے اور پھر دن طلوع ہوتے ہی اتحادی فوجوں کے جنگی جہازوں نے نازی جرمن فوجوں پر دھاوا بول دیا جب کہ پشت کی جانب سے وہاں اترنے والے اتحادی فوجیوں نے جرمن فوجیوں کو مشین گنوں اور توپوں سے بھون ڈالا۔

اس آپریشن میں شریک ہونے والے بعض سابق امریکی فوجیوں کا کہنا تھا کہ ساحل کی ریت اور سمندر کا پانی خون کی سرخی میں ڈھل گیا تھا۔ اس آپریشن کے دوران جرمن فوجوں نے پہاڑوں کی چوٹیوں کی جانب چڑھائی کرتے ہوئے درجنوں امریکی فوجیوں کو مشین گنوں کے ذریعے ہلاک کر دیا تھا۔ یہ وہی مقام ہے جہاں اب امریکی فوجیوں کا قبرستان موجود ہے۔

اس مقام پر ہونے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے آپریشن کے دوران زندہ بچ جانے والے سابق امریکی فوجیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ عظیم ترین امریکیوں میں شامل ہیں اور آپ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آپ ہماری قوم کا فخر ہیں اور ہم تہہ دل سے آپ کے شکرگزار ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG