رسائی کے لنکس

ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کا معاملہ، ٹرمپ فیصلے پر پہنچ گئے


ٹرمپ نے یہ بتانے سے احتراز کیا آیا اُنھوں نے کیا فیصلہ کیا ہے۔ ایک ہی روز قبل صدر ٹرمپ نے ایران کی مذمت کی، یہ کہتے ہوئے کہ ’’معاشی طور پر کمزور من مانی کرنے والا یہ وہ ملک ہے، جس کی خاص برآمدات تشدد، خونریزی اور افراتفری‘‘ ہیں

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا ہے کہ وہ فیصلے تک پہنچ گئے ہیں آیا امریکہ کو 2015ء کے بین الاقوامی معاہدے سے الگ ہو جانا چاہیئے، جس کے تحت ایران کو جوہری ہتھیار تشکیل دینے کا راستہ ترک کرنے کا پابند کیا گیا تھا۔

ٹرمپ نے یہ بتانے سے احتراز کیا آیا اُنھوں نے کیا فیصلہ کیا ہے۔

لیکن، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایران کے ساتھ امریکہ کی تلخی کا معاملہ توجہ کا مرکز بن چکا ہے، جس سے ایک ہی روز قبل اُنھوں نے ایران کی مذمت کی، یہ کہتے ہوئے کہ ’’معاشی طور پر کمزور من مانی کرنے والا یہ وہ ملک ہے، جس کی خاص برآمدات تشدد، خونریزی اور افراتفری‘‘ ہیں۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے بدھ کے روز اپنے خطاب میں عالمی تنظیم کے 193 ملکوں کے سربراہان کےسالانہ اجتماع کو بتایا کہ ایران کسی کی دھمکی برداشت نہیں کرتا اور ٹرمپ کی شکایات سے کوئی اثر نہیں پڑتا۔ روحانی نے انھیں ’’بدنما، لاعلمی پر مبنی الفاظ‘‘ قرار دیا۔

بظاہر امریکی سربراہ کا حوالہ دیتے ہوئے، روحانی نے کہا کہ دنیا کی سیاست میں ایک نووارد ’’آوارہ فرد‘‘ کی جانب سے جوہری سمجھوتے کی ’’تباہی‘‘ سے ایران کو پیش قدمی اور ترقی کی راہ سے نہیں ہٹایا جا سکتا۔

روحانی نے کہا کہ ’’ایران سمجھوتے کی خلاف ورزی میں پہل نہیں کرے گا۔ لیکن کسی فریق کی جانب سے اس کی خلاف ورزی پر وہ فیصلہ کُن اور پختہ جواب دے گا۔ بین الاقوامی فیصلوں کی خلاف ورزی کرکے، نئی امریکی انتظامیہ آئندہ نسلوں کی نظروں میں اپنی ساکھ گنوا دے گی‘‘۔

ایک ٹوئٹر پیغام میں، ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے منگل کے روز ٹرمپ کے دعووں کو ’’ لاعلمی، نفرت پر مبنی خطاب‘‘ قرار دیا، جس کا تعلق قرون وسطیٰ کے دور سے تھا، نہ کہ 21 ویں صدی کی اقوام متحدہ سے‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG