رسائی کے لنکس

logo-print

ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس نے منافرٹ اور کوہن کے بیان کو خاص اہمیت نہیں دی


امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اُن کی انتخابی مہم نے نہیں بلکہ خود اُنہوں نے ہی 2016ء میں اپنے وکیل مائیکل کوہن کی معرفت منہ بند کرنے کے لیے پیسے بھرے تھے، جو معاملہ انتخاب سے چند ہی روز قبل ہوا۔ تاہم، اُنھوں نے زور دے کر کہا کہ اُس وقت اُن کو بات کا پتا نہیں تھا۔

حقائق کے بارے میں، ٹرمپ نے ’فوکس نیوز چینل‘ کو بتایا کہ ’’بعد میں مجھے معلوم ہوا‘‘۔

اِس انٹرویو کا کچھ حصہ بدھ کی شام ’فوکس نیوز‘ نے جاری کیا ہے۔ کلپ میں صدر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اُن خواتین کو انتخابی مہم کی رقوم فراہم نہیں کی گئیں، جو اُن کے ساتھ جنسی تعلقات کی دعوے دار ہیں۔

انتخابی رقوم کے استعمال سے متعلق ٹرمپ نے کہا کہ ’’یہ کسی قدر مشکل معاملہ ہو سکتا ہے‘‘۔ تاہم، ’’یہ انتخابی مہم کے ضابطوں کی خلاف ورزی کے زمرے میں نہیں آتا‘‘۔

کوہن نے منگل کو نیو یارک سٹی میں ایک وفاقی جج کو بتایا کہ اُنھوں نے دو خواتین کو رقوم کی ادائگی کی، جس کا مقصد خاص طور پر ٹرمپ کے انتخاب کو متاثر کرنا تھا، اور یہ کہ صدارتی امیدوار نے انہیں ایسا کرنے کے لیے حکم دیا تھا۔

جاری کی گئی قانونی دستاویزات میں الزام لگایا گیا ہے کہ ٹرمپ کی جائیداد کی کمپنی نے باضابطہ اجازت دی کہ کوہن کو 420000 ڈالر ادا کیے جائیں، تاکہ خواتین کو خاموش کیا جاسکے جو دعوے دار تھیں کہ ری پبلیکن پارٹی کے امیدوار کے اُن کے ساتھ جنسی تعلقات ہیں۔

نقلی دستاویزات تیار کی گئیں جن میں مبینہ طور پر حقائق کو چھپایا گیا، جن سے ٹرمپ کی کمپنی اور اُن کی انتخابی مہم کے بارے میں براہ راست استغاثے کی چھان بین ہو سکتی ہے۔

وائٹ ہاؤس پریس سکریٹری، سارا ہکابی سینڈرز نے بدھ کی شام بریفنگ کے دوران اخباری نمائندوں کے متعدد سوالوں کا جواب دیتے ہوئے بار بار کہا کہ صدر نے کوئی غلط کام نہیں کیا؛ اور یہ ’’بیکار الزام‘‘ ہوگا جس میں یہ تاثر دیا جائے کہ اس سے قبل ادائگیوں سے متعلق پتا ہونے کے باوجود صدر نے جھوٹ بولا تھا۔

سینڈرز نے کہا کہ اس سے قبل اُن پر ایسا الزام نہیں لگا، صرف اس لیے نہیں کہ مائیکل کوہن نے استغاثے کے ساتھ اپنے جرم پر سمجھوتا کیا ہے، اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ کسی معاملے میں صدر کو ملوث سمجھا جائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG