رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی وزیرِ دفاع میٹس فروری میں ریٹائر ہو جائیں گے: ٹرمپ


امریکی وزیر دفاع جم میٹس (فائل فوٹو)

'پینٹاگون' نے جم میٹس کا ایک خط جاری کیا ہے جس کے متن سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ وہ ریٹائر نہیں ہو رہے ہیں بلکہ اپنی ذمہ داریاں چھوڑ رہے ہیں۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وزیرِ دفاع جم میٹیس آئندہ سال فروری کے آخر میں اپنا عہدہ چھوڑ دیں گے۔

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو اپنی ایک ٹوئٹ میں جِم میٹس کی رخصتی کا اعلان کرتےہوئے کہا کہ جلد ہی نئے وزیرِ دفاع کے نام کا اعلان کر دیا جائے گا۔

وزیرِ دفاع کا اپنی ذمہ داریاں چھوڑنے کا فیصلہ صدر ٹرمپ کی جانب سے شام سے امریکہ کے فوجی دستے واپس بلانے کے غیر متوقع اعلان کے صرف ایک روز بعد سامنے آیا ہے جس پر خود صدر کے اتحادی اور امریکی کانگریس کے ارکان حیران رہ گئے تھے۔

جمعرات کو اپنے ٹوئٹ میں صدر نے جِم میٹس کی کارکردگی پر انہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں امریکی فوج کو نئے ہتھیاروں کی خریداری سمیت کئی اہم کامیابیاں ملیں ۔

صدر کے بقول جِم میٹس نے بطور وزیرِ دفاع امریکہ کے اتحادیوں اور دیگر ممالک کو ان پر واجب الادا عسکری اخراجات کی ادائیگی پر قائل کرنے میں ان کی بہت مدد کی۔

صدر ٹرمپ نے اپنے پیغام میں یہ تاثر دیا ہے کہ جِم میٹس اپنی ذمہ داریوں سے ریٹائرڈ ہو رہے ہیں۔ لیکن 'پینٹاگون' نے جم میٹس کا ایک خط جاری کیا ہے جس کے متن سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں چھوڑ رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ کے نام اپنے اس خط میں جِم میٹس نے لکھا ہے کہ چوں کہ بطور صدر آپ کو ایسے وزیرِ دفاع کے انتخاب کا حق حاصل ہے جس کےخیالات آپ سے ملتے ہوں، اس لیے ان کے بقول وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں اپنی ذمہ داریاں چھوڑ دینی چاہئیں۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ سینڈرز نے جمعرات کی شب صحافیوں سے گفتگو میں صدر ٹرمپ اور وزیرِ دفاع کے درمیان اختلافات کے تاثر کو رد کیا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ گو کہ ان دونوں کے درمیان خارجہ امور اور بعض دیگر معاملات پر اتفاقِ رائے نہیں لیکن ان کے آپس میں اچھے تعلقات ہیں۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے جم میٹس کے ریٹائر ہونے کے اعلان سے کچھ ہی پہلے امریکی وزارت دفاع نے ایک خط جاری کیا تھا جس میں امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے اتحادیوں کے ساتھ قریبی شراکت داری پر زور دیا گیا تھا۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے جم میٹس کے ریٹائر ہونے کے اعلان سے کچھ ہی پہلے امریکی وزارت دفاع نے ایک خط جاری کیا تھا جس میں امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے اتحادیوں کے ساتھ قریبی شراکت داری پر زور دیا گیا تھا۔

اطلاعات ہیں کہ پینٹاگون صدر ٹرمپ کے شام میں داعش کو شکست دینے کے دعوے اور امریکی فوج واپس بلانے کے فیصلے سے متفق نہیں اور جِم میٹس کا وزیرِ دفاع کی ذمہ داریاں چھوڑنے کا اعلان اس اختلاف کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق شام سے متعلق حکمتِ عملی کے علاوہ صدر اور وزیرِ دفاع کے درمیان روس کے صدر ولادی میر پوٹن کے بارے میں بھی اختلافات تھے۔

جِم میٹس سمجھتے ہیں کہ روسی صدر 'نیٹو' اور امریکہ کے یورپی اتحادیوں کو کمزور کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

اس کے برعکس صدر ٹرمپ ماضی میں پوٹن کی قائدانہ صلاحیتوں کی تعریف کرچکے ہیں اور دنیا کے بڑے صنعتی ملکوں کی تنظیم 'جی8' میں روس کی رکنیت کی بحالی کی تجویز بھی دے چکے ہیں۔

میٹس ماضی میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ برقرار رکھنے کی وکالت بھی کرتے رہے ہیں اور انہوں نے ٹرمپ حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ یک طرفہ طور پر جوہری معاہدہ ختم نہ کرے۔

جِم میٹس نے دو سال قبل ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدۂ صدارت سنبھالنے کے کچھ ہفتوں بعد ہی وزارتِ دفاع کا منصب سنبھالا تھا اور وہ صدر ٹرمپ کی کابینہ میں سب سے زیادہ عرصے تک ٹکے رہنے والے وزیروں میں سے ایک ہیں۔

جِم میٹس ایک طویل اور شاندار فوجی کیریئر رکھتے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کے 44 سال امریکی فوج کی میرین کور میں گزارے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG