رسائی کے لنکس

logo-print

ٹرمپ کی شٹ ڈاؤن کے عارضی خاتمے کے لیے سمجھوتے کی پیشکش


امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو پیش کش کی ہے کہ اگر وہ انہیں میکسیکو کے ساتھ سرحد پر دیوار کی تعمیر کے لیے ابتدائی رقم فراہم کردیں تو وہ وفاقی حکومت کا جاری شٹ ڈاؤن عارضی طور پر ختم کرنے پر رضامند ہیں۔

جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے اپنے اس مؤقف کو دہرایا کہ جرائم پیشہ افراد، انسانی اسمگلروں اور منشیات کے امریکہ پر "حملے" کو روکنے کے لیے امریکہ کو میکسیکو کے ساتھ سرحد پر دیوار کی ضرورت ہے۔

صدر نے کہا کہ ان کی پالیسیوں کے نتیجے میں امریکہ کی معیشت بہتر ہوئی ہے اور روزگار کے مواقع بڑھے ہیں جس کی وجہ سے غیر ملکی تارکینِ وطن کی ایک بڑی تعداد امریکہ آنا چاہتی ہے۔

لیکن انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کسی کو غیر قانونی طور پر امریکہ نہیں آنے دے گی اور جو امریکہ آنا چاہتا ہے اسے قانونی راستہ اختیار کرنا ہوگا۔

لیکن ساتھ ہی صدر نے خبردار کیا کہ اگر کانگریس کے ساتھ کوئی مناسب سمجھوتہ نہ ہوا ان کے پاس دیوار کی تعمیر کے لیے درکار فنڈز کے حصول کے متبادل راستے بھی موجود ہیں۔

صدر کا بظاہر اشارہ ملک میں ہنگامی حالات کے نفاذ کی جانب تھا جس کی صورت میں وہ وفاقی بجٹ کی دیگر مدات سے رقم نکال کر دیوار کی تعمیر کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔

سینیٹ میں شٹ ڈاؤن کے خاتمے کے لیے پیش کردہ بلِز کی ناکامی کے بعد اکثریتی رہنما مچ مکونیل ایوان سے باہر آ رہے ہیں۔
سینیٹ میں شٹ ڈاؤن کے خاتمے کے لیے پیش کردہ بلِز کی ناکامی کے بعد اکثریتی رہنما مچ مکونیل ایوان سے باہر آ رہے ہیں۔

یہ اطلاعات بھی ہیں کہ ڈیموکریٹس کے ساتھ جاری اختلافات دور نہ ہونے کے بعد وائٹ ہاؤس نے ہنگامی حالات کے نفاذ کے حکم نامے کی تیاری شروع کردی ہے۔

امریکی صدر نے ابتدائی رقم کے عوض شٹ ڈاؤن ختم کرنے کی پیشکش جمعرات کو سینیٹ میں ان دو بِلوں کے مسترد ہونے کے بعد کی ہے جو ڈیموکریٹ اور ری پبلکن ارکان نے الگ الگ پیش کیے تھے۔

دونوں بِلوں کا مقصد وفاقی حکومت کے ان محکموں کو عبوری مدت کے لیے فنڈز فراہم کرنا تھا جو 22 دسمبر سے جاری جزوی شٹ ڈاؤن کے باعث روزمرہ کی سرگرمیاں اور خدمات انجام دینے سے عاری ہیں۔

سینیٹ میں ری پبلکن ارکان کی جانب سے پیش کیے جانے والے بِل میں سرحد پر دیوار کی تعمیر کے لیے پانچ ارب 70 کروڑ ڈالر کی رقم کے علاوہ 30 ستمبر کو ختم ہونے والے رواں مالی سال کی باقی ماندہ مدت کے لیے حکومت کو درکار فنڈز مختص کیے گئے تھے۔

لیکن سینیٹ نے یہ بِل 47 کے مقابلے میں 50 ووٹوں سے مسترد کردیا۔

سینیٹ نے ڈیموکریٹس کی جانب سے متعارف کرایا جانے والا ایک دوسرا بِل بھی 44 کے مقابلے میں 52 ووٹوں سے مسترد کردیا جس میں سرحدوں کی سکیورٹی اور امیگریشن سے متعلق کوئی شِق شامل نہیں تھی۔

شٹ ڈاؤن کے خلاف وفاقی ملازمین کا احتجاج بھی جاری ہے۔
شٹ ڈاؤن کے خلاف وفاقی ملازمین کا احتجاج بھی جاری ہے۔

البتہ بِل میں وفاقی حکومت کے بند محکموں کو دو ہفتوں کے لیے کھولنے کی تجویز شامل تھی تاکہ اس عرصے کے دوران ڈیموکریٹس اور ری پبلکن طویل المدتی بجٹ پر اپنے اختلافات دور کرلیں۔

دونوں بِلز کو 100 رکنی سینیٹ سے منظوری کے لیے کم از کم 60 ووٹ درکار تھے۔ سینیٹ میں ری پبلکنز کو 53 ارکان کے ساتھ اکثریت حاصل ہے جب کہ ڈیموکریٹس کے 47 ارکان ہیں۔

دونوں بِلز کے مسترد ہونے کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان ایک بار پھر 35 روز سے جاری شٹ ڈاؤن عارضی طور پر ختم کرنے کے لیے مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔

جمعرات کو سینیٹ میں بِلز پر رائے شماری کے فوری بعد سینیٹ میں اکثریتی ری پبلکن رہنما مچِ مکونیل نے ڈیموکریٹ رہنما چک شمر کو ٹیلی فون کیا اور مستقبل کے لائحہ عمل پر بات چیت کی۔

دونوں جماعتوں کے سرکردہ سینیٹرز نے وفاقی حکومت کے بند محکموں کو تین ہفتوں کے لیے کھولنے اور تنخواہوں سے محروم آٹھ لاکھ وفاقی ملازمین کو واجبات کی ادائیگی کا متبادل منصوبہ بھی پیش کر رکھا ہے تاکہ اس عرصے کے دوران وائٹ ہاؤس اور ڈیموکریٹس کے درمیان بجٹ اور سرحدی دیوار کی تعمیر پر موجود اختلافات دور کیے جاسکیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG