رسائی کے لنکس

logo-print

دھماکہ خیز مواد بھیجنے کا اقدام قابل نفرت ہے، صدر ٹرمپ


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا ہے کہ امریکہ کے موجودہ اور سابق سرکاری اہلکاروں کو دھماکہ خیز مواد سے نشانہ بنانے کا اقدام ’قابل نفرت‘ ہے اور اس کی امریکی سیاست میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔

سابق صدر براک اوباما، سابق وزیر خارجہ ہلری کلنٹن اور متعدد معروف امریکی شخصیات کے علاوہ نیو یارک میں سی این این کے ہیڈکوارٹرز کو دھماکہ خیز مواد بھیجا گیا ہے۔ دھماکہ خیز مواد بھیجے جانے کے حوالے سے تحقیقات کا عمل جاری ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسکانسن میں انتخابی مہم کے دوران کہا کہ سیاسی تشدد در اصل جمہوریت پر ہونے والا حملہ ہے۔ اُنہوں نے اس حوالے سے میڈیا کو بھی ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ میڈیا پر بھی اس بات کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی نا ختم ہونے والی دشمنی اور مسلسل منفی اور اکثر جعلی خبروں پر مشتمل رپورٹنگ بند کرے۔

نیو یارک میں موجود سی این این کے ہیڈ کوارٹرز کو بھی اُس کے ’میل روم‘ میں مشکوک مواد کی موجودگی کی اطلاع کے بعد خالی کرا لیا گیا تھا۔ سرکاری اہلکاروں نے اس اقدام کو دہشت گردی کا اقدام قرار دیا ہے۔

نیو یارک پولیس کمشنر جیمز او نیل کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے حوالے سے پولیس اہلکاروں نے ایک ڈیوائس کی شناخت کی جو ایک دھماکہ خیز مواد معلوم ہوتا تھا۔ نیو یارک پولیس کے بموں کو ناکارہ بنانے والے سکواڈ نے فوراً موقع پر پہنچ کر اس مواد کو ناکارہ بنایا اور اسے وہاں سے ہٹا دیا۔ اس کے علاوہ وہاں سے سفید پوڈر کا ایک لفافہ بھی پکڑا گیا۔

اس طرح کا ایک مشکوک پیکج ڈیمو کریٹک پارٹی کی کانگریس وومن ڈیبی وازرمین شُلز کے فلوریڈا دفتر میں بھی پایا گیا۔ اس کے علاوہ ڈیموکریٹک پارٹی کو خطیر چندہ دینے والے ارب پتی جارج سورس کے میل بکس میں بھی پیر کے روز ایک پائپ بم پایا گیا۔ تاہم، ان میں سے کوئی بھی مواد دھماکے سے نہیں پھٹ پایا۔

نائب صدر پینس نے اس اقدام کو بزدلانہ حرکت قرار دیا۔ فلوریڈا میں ہلری کلنٹن کا کہنا تھا کہ یہ امریکہ کی تاریخ میں ایک پریشان کُن وقت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ گہری تقسیم کا وقت ہے اور ہمیں ہر وہ قدم اُٹھانا ہو گا جس سے ہم اپنی قوم کو متحد کر سکیں۔

ناقدین صدر ٹرمپ پر مخالفانہ بیانات کو ہوا دینے کا الزام عائد کرتے ہیں۔ تاہم، رپبلکن پارٹی کے سینیٹر اورین ہیچ اعتدال پسندی کا مشورہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ دونوں جانب لوگوں کو اپنے مؤقف میں توازن پیدا کرنا ہو گا۔

واشنگٹن، نیویارک، فلوریڈا اور لاس اینجلس میں تحقیقات کار یہ مواد بھیجنے والے کا پتہ لگانے کی خاطر اپنی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG