رسائی کے لنکس

logo-print

تھینکس گیونگ پر وائٹ ہاؤس میں ٹرکی کی جان بخشی کی دلچسپ روایت


صدر ٹرمپ کارن نامی ٹرکی کو آزاد کرنے کے موقع پر اظہار خیال کر رہے ہیں۔ ان کے ساتھ خاتون اول میلائںا ہیں۔ 24 نومبر 2020

منگل کی شام وائٹ ہاؤس کے روز گارڈن میں ایک خصوصی تقریب کے دوران مہمانوں کی نظریں سفید پروں والے ایک ٹرکی پر جمی تھیں، جو اپنی گردن اٹھا کر فخریہ انداز میں اردگرد دیکھ رہا تھا، کیونکہ وہ ان لاکھوں ٹرکیوں سے منفرد تھا، جو تھینکس گیونگ کے موقع پر ذبح ہونے کے بعد ضیافتوں کا اہم حصہ بن جاتے ہیں۔

تھینکس گیونگ سے چند روز پہلے وائٹ ہاؤس میں صدر ایک ٹرکی کی جان بخشی کر کے اسے آزاد کر دیتے ہیں۔ یہ روایت عشروں سے چلی آ رہی ہے۔

منگل کی شام صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست آئیوا سے اس تقریب کے لیے خصوصی طور پر لائے گئے سفید رنگ کے ٹرکی کی جان بخشی کا اعلان کر کے اسے آزاد کر دیا۔

ٹرکی کا نام ' کارن' ہے۔ خاتون اول میلائنا اور دیگر مہمانوں میں گھرے ہوئے ٹرکی کو مخاطب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا۔" کارن میں تمہیں عام معافی دینے کا اعلان کرتا ہوں۔ بہت شکریہ کارن"۔

صدر ٹرمپ اور خاتون اول میلائںا آزاد کیے جانے والے ٹرکی کارن کے ساتھ۔ 24 نومبر 2020
صدر ٹرمپ اور خاتون اول میلائںا آزاد کیے جانے والے ٹرکی کارن کے ساتھ۔ 24 نومبر 2020

دلچسپ بات یہ ہے کہ وائٹ ہاؤس میں معافی کی اس روایتی تقریب کے لیے دو ٹرکی لائے گئے تھے، جن میں سے ایک کی جان بخشی کی جانی تھی۔دوسرا ٹرکی، کارن کا بھائی ہے اور اس کا نام 'کاب' ہے۔

طے یہ پایا کہ جان بخشی کا فیصلہ وائٹ ہاؤس کے عہدے داروں کی بجائے عوام پر چھوڑ دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے وائٹ ہاؤس نے ٹوئٹر پر ایک پول شروع کیا جس میں لوگوں سے پوچھا گیا کہ وہ یہ بتائیں کہ صدر ٹرمپ، کارن اور کاب میں سے کسے عام معافی دیں۔ قسمت نے کارن کا ساتھ دیا اور اس کے حق میں آنے والے ووٹ زیادہ تھے۔

آئیوا کے علاقے وال کاٹ سے لائے جانے والے یہ دونوں ٹرکی ران کیرڈل کے فارم میں پیدا ہوئے اور پروان چڑھے ہیں کیرڈل ایک کسان ہیں اور وہ نیشنل ٹرکی فیڈریشن کے چیئرمین بھی ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی ویب سائٹ پر ان دونوں پرندوں کے متعلق بتایا گیا ہے کہ کارن کی پیدائش اس سال 20 جولائی کو ہوئی تھی۔ اس کا وزن 19 کلوگرام ہے اور اس کی پسندیدہ خوراک مکئی ہے۔ جب کہ کاب بھی 20 جولائی کو ہی پیدا ہوا تھا۔ اس کا وزن ساڑھے 18 کلوگرام ہے یعنی کارن سے سے آدھا کلو کم۔ وہ سویابین زیادہ شوق سے کھاتا ہے۔

امریکہ میں 1870 کے عشرے سے یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ تھینکس گیونگ کے موقع پر ٹرکی فارموں کے بعض مالکان صدر کو تحفے میں ٹرکی بجھواتے ہیں۔ 1923 میں وائٹ ہاؤس میں اتنی کثیر تعداد میں تحفے کے طور پر ٹرکی موصول ہوئے کہ اس وقت کے صدر کیلونگ کولج نے ٹرکی کے تحائف پر پابندی لگا دی۔

تاہم اس کے بعد 1940 میں یہ روایت دوبارہ بحال ہو گئی اور تھینکس گیونگ کے موقع پر وائٹ ہاؤس میں ٹرکی آنا شروع ہو گئے اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔

صدر ٹرمپ ٹرکی کی جان بخشی کا اعلان کر رہے ہیں۔ 24 نومبر 2020
صدر ٹرمپ ٹرکی کی جان بخشی کا اعلان کر رہے ہیں۔ 24 نومبر 2020

یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ ٹرکی کی جان بخشی کی روایت کچھ زیادہ پرانی نہیں ہے۔ اس رسم کی ابتدا 1989 میں اس وقت کے صدر جارج ڈبلیو بش نے رکھی تھی اور پہلی بار ایک ٹرکی کو کھانے کی میز کی زینت بننے کی بجائے آزاد کیا گیا تھا۔

وائٹ ہاؤس میں پہنچنے والے جو ٹرکی عام معافی سے محروم رہ جاتے ہیں، وہ تھینکس گیونگ کی ضیافت کی میز پر مرکزی پکوان کے طور پر مہمانوں کو پیش کر دیے جاتے ہیں۔ جب کہ معافی پانے والے ٹرکی سٹار بن جاتے ہیں اور انہیں مختلف ریاستوں کے تعلیمی اداروں میں بھیج دیا جاتا ہے، جہاں ان کے اعزاز میں تقریبات اور نمائشیں منعقد ہوتی ہیں۔

اگرچہ ٹوئٹر پول میں لوگوں نے کاب کی جان بخشی کے حق میں ووٹ نہیں دیا تھا، لیکن کاب کو بھی اپنے بھائی کارن کے ہمراہ ایمز میں واقع آئیوا سٹیٹ یونیورسٹی بھیجا جا رہا ہے جہاں ان کے اعزاز میں پانچ دسمبر سے نمائش شروع ہو رہی ہے۔

آئیوا سٹیٹ یونیورسٹی کے جانوروں کی سائنس کے شعبے کے سربراہ ڈین تھامسن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم تھینکس گیونگ کے ان دو قومی ہیروز کا خیرمقدم کرتے ہوئے خوشی محسوس کر رہے ہیں۔ ہم لوگوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ انہیں دیکھنے کے لیے یونیورسٹی میں تشریف لائیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG