رسائی کے لنکس

logo-print

کیلیفورنیا میں ٹرمپ کے حامیوں اور مخالفین میں تصادم


پولیس نے تین افراد کو حراست میں لیا ہے جن میں وہ دو لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے پولیس اور مظاہرین کو علیحدہ رکھنے کے لیے لگائی گئی باڑ پھلانگنے کی کوشش کی۔

امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ریپبلکن کی طرف سے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں اور مخالفین میں ایک بار پھر کشیدگی دیکھنے میں آئی ہے۔

جمعہ کو سان ڈیاگو میں کنونشن سینٹر میں ٹرمپ اپنے حامیوں سے خطاب کر رہے تھے کہ اس دوران ان کے تقریباً ایک ہزار کے قریب مخالفین نے سینٹر کے باہر ٹرمپ کے خلاف نعرے بازی کی۔

میکسیکو کی سرحد سے صرف 24 کلومیٹر پر واقع اس شہر میں مظاہرے کرنے والے لوگوں نے امریکہ اور میکسیکو کے پرچم اٹھا رکھے تھے۔

پولیس نے تین افراد کو حراست میں لیا ہے جن میں وہ دو لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے پولیس اور مظاہرین کو علیحدہ رکھنے کے لیے لگائی گئی باڑ پھلانگنے کی کوشش کی۔

گرفتاریوں کے بعد مظاہرین اشتعال میں آ گئے اور انھوں نے پولیس پر پانی کی دھار اور پلاسٹک کی خالی بوتلیں پھینکیں۔

اس سے قبل جمعہ کو ہی وسطی شہر فرنسو میں بھی ٹرمپ کے خطاب کے موقع پر ان کے مخالفین نے مظاہرہ کیا تھا۔

ٹرمپ نے اپنے حامیوں سے خطاب میں کہا کہ وہ یہاں کے لوگوں کے پانی کے مسائل اس طرح سے حل کر سکتے ہیں کہ یہ اعلان کر دیا جائے کہ یہاں خشک سالی نہیں ہے۔

انھوں نے ریاست کے حکام پر الزام عائد کیا کہ وہ وسطی وادی کے کسانوں کو پانی دینے کی بجائے اسے سمندر میں پھینک رہے ہیں تاکہ "ایک تین انچ کی مخصوص نسل کی مچھلی کو بچایا جائے۔"

تین انچ کی اس مقامی مچھلی "سملٹ" کی نسل معدومی کا شکار ہے۔

فرنسو کا علاقہ ریاست کا زرعی اعتبار سے ذرخیز علاقہ ہے اور یہاں گزشتہ پانچ سالوں سے پانی کے معاملے پر کسانوں اور حکام کے مابین تنازع چلا آرہا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حامیوں سے کہا کہ "اگر میں جیت گیا تو میرا یقین کریں، ہم پانی کی فراہمی شروع کریں گے تاکہ آپ کے کھیت بچ سکیں اور روزگار کے مواقع بہتر ہوں۔"

ڈونلڈ ٹرمپ کو ریپبلکن جماعت کی صدارتی نامزدگی حاصل کرنے کے لیے درکار مندوبین کی تعداد حاصل ہو چکی ہے اور ممکنہ طور پر وہ نومبر کے صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹس کی ہلری کلنٹن کے خلاف میدان میں اتریں گے۔

XS
SM
MD
LG