رسائی کے لنکس

logo-print

خواتین کو چپ رہنے کی خاطر رقوم کی ادائیگی کا معاملہ غلط طور پر اچھالا گیا: ٹرمپ


صدر ٹرمپ نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ان کے سابق اٹارنی مائیکل کوہن کی جانب سے ادا کی جائے والی رقوم ایک سادہ سا نجی لین دین تھا، جسے مخالف ڈیموکریٹ پارٹی اور وفاقی پراسیکیوٹرز نے غلط طور پر پیش کیا۔

صدر ٹرمپ نے پیر کے روز اپنے خلاف انتخابی مہم کے مالیاتی قوانین کی مجرمانہ خلاف ورزی کے الزامات کی اہمیت گھٹانے کی کوشش کی جس کا تعلق اس پہلو سے ہے کہ انہوں نے سن 2016 کے انتخابات سے قبل اپنے وکیل کو دو خواتین کو 2 لاکھ 80 ہزار ڈالر دینے کی ہدایت کی تھی تا کہ وہ ٹرمپ سے اپنے مبینہ جنسی تعلقات کے بارے میں اپنی زبان بند رکھیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ان کے سابق اٹارنی مائیکل کوہن کی جانب سے ادا کی جائے والی رقوم ایک سادہ سا نجی لین دین تھا، جسے مخالف ڈیموکریٹ پارٹی اور وفاقی پراسیکیوٹرز نے غلط طور پر پیش کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا تھا بھی تو یہ بھی یہ ایک سول کیس تھا اگر اس کا موازنہ ان کے پیش رو ڈیموکریٹک پارٹی کے براک اوباما کی 2008 کی انتخابی مہم سے منسلک مالی خلاف ورزیوں سے کیا جائے۔

لیکن صدر ٹرمپ نے کہا کہ فحش فلموں کی اداکارہ سٹورمی ڈینیئل اور پلے بوائے ماڈل مک ڈوگل کے حوالے سے وکیل نے درست اقدام کیا تھا۔ اگر اس نے کوئی غلطی کی ہے تو اس کی ذمہ داری وکیل پر عائد ہوتی ہے نہ کہ مجھ پر۔

انہوں نے کہا کہ کوہن صرف اپنی سزا میں تخفیف کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ مجھ پر الزام تراشی کر رہا ہے۔

صدر ٹرمپ کے اپنے سابق وکیل کوہن کے بارے میں یہ تبصرے اس کے بعد سامنے آئے ہیں جب جمعے کے روز وفاقی پراسیکیوٹرز نے کہا تھا کہ ٹرمپ کے وکیل نے ان کی ہدایت اور معاونت کے ساتھ ، جو اس وقت ایک صدارتی امیدوار تھے، 2016 کے انتخابات سے فوری پہلے بہت بڑی رقوم خاموشی سے ادا کی تھیں۔

کوہن کو بدھ کے روز کئی اور فوجداری جرائم کے ساتھ رقوم کی ادائیگیاں کرنے پر سزا دی جائے گی اور انہیں کئی سال جیل میں گزارنے پڑ سکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے، جیسا کہ وہ اکثر کرتے ہیں۔ اسپیشل کونسل رابرٹ ملر کی 19 مہینوں پر محیط تفتیش میں اپنے خلاف مقدمے میں رکاوٹیں کھڑی کر کے انصاف کا راستہ روکنے کی کوشش کی جس کا تعلق اس پہلو سے ہے کہ آیا ٹرمپ کی انتخابی مہم کے دوران صدارتی الیکشن جیتنے میں مدد کے لیے روس نے سازش کی تھی۔

جوڈیشری کمیٹی کے چیئرمین جیری نیڈلر میڈیا سے بات کر رہے ہیں۔
جوڈیشری کمیٹی کے چیئرمین جیری نیڈلر میڈیا سے بات کر رہے ہیں۔

ایک اہم امریکی قانون ساز نے اتوار کے روز کہا تھا کہ ڈیموکریٹس ایوان نمائندگان میں ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ دھوکے بازوں اور بددیانت لوگوں کے نرغے میں ہیں اور سن 2016 کا الیکشن جیتنے کے لیے امریکی عوام کےخلاف وہ ایک بڑی سازش کا حصہ تھے۔

اگلے مہینے جب ڈیموکریٹس ایوان نمائندگان کا کنٹرول سنبھالیں گے تو نیویارک کے ڈیموکریٹ کانگریس مین جیرالڈ نیڈلر جوڈیشری کمیٹی کے چیئرمین ہوں گے۔ انہوں نے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب یہ قانون ساز طے کریں گے کہ صدر ٹرمپ کے خلاف الزامات کی نوعیت کیا ہے اور اگر وہ سنگین ہوئے تو کارروائی مواخذے کی طرف جا سکتی ہے۔

نیڈلر نے کہا کہ اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ دو خواتین کو دی جانے والی رقوم یقینی طور پر قابل مواخذہ جرائم ہیں، تو پھر انہیں اپنے عہدے سے ہٹانے کی کارروائی آگے بڑھ سکتی ہے، لیکن ضروری ہے کہ اس کے لیے سینیٹ کم ازکم دو تہائی ووٹ دے۔ لیکن صورت حال یہ ہے کہ جنوری میں ایوان نمائندگان کا کنٹرول ڈیموکریٹس اور سینیٹ کا ری پبلیکنز کے پاس ہو گا۔

ٹرمپ، ملر کی انکواری ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں، لیکن فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے ایک ری پبلیکن سینیٹر مارکو روبیو نے اے بی سی نیوز کو بتایا کہ انہوں نے ہمیشہ ملر کی تحقیقات کی حمایت کی ہے اور وہ اس کی حمایت کرتے رہیں گے کیونکہ ان کے خیال میں اس میں صدر سمیت ہر ایک کا مفاد ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG