رسائی کے لنکس

logo-print

مائیکل کوہن کے اعتراف جرم نے ٹرمپ کے مستقبل پر سوالات اٹھا دیے


صدر ٹرمپ اور ان کے وکیل مائیکل کوہن

امریکی صدر کے وکیل مائیکل کوہن نے خود پر لگے الزامات قبول کر لئے ہیں جس کے بعد امریکی صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت سے متعلق جاری تحقیقات نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذاتی وکیل مائیکل کوہن کی جانب سے گزشتہ ہفتے خود پر عائد الزامات کو قبول کرنے کے بعد، روسی مداخلت سے متعلق خصوصی کونسل رابرٹ ملر کی قیادت میں جاری تحقیقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔

اب قانونی ماہرین اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ کیا یہ تحقیقات اختتام کی جانب جا رہی ہیں، اور اگر ایسا ہے تو پھر صدر ٹرمپ اور ملک کے لئے اس کے کیا نتائج کیا ہوں گے۔

پیر کے روز اپنے ٹویٹر پیغامات کے ایک سلسلے میں، صدر ٹرمپ نے خصوصی کونسل رابرٹ ملر اور اپنے ذاتی وکیل مائیکل پر تنقید کی۔

گزشتہ ہفتے نیو یارک میں، مائیکل کوہن یہ اقرار کیا کہ انہوں نے روس میں ایک تعمیراتی پروجیکٹ میں صدر ٹرمپ کی دلچسپی کے حوالے سے کانگریس سے جھوٹ بولا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب صدر ٹرمپ اپنی صدارتی مہم چلا رہے تھے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہیں اس چیز کی کوئی پراوہ نہیں کہ کوہن تفتیش کاروں کو مزید کیا بتائیں گے۔

صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ مجھے اس سلسلے میں بالکل بھی تشویش نہیں ہے

ریاست ورجینیا سے ڈیموکریٹ جماعت کے سینیٹر، مارک وارنر کہتے ہیں کہ کوہن کے اعتراف کے بعد، روس سے متعلق تحقیقات، اس وقت کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور روس کے درمیان تعلقات کے قریب تر ہو جاتی ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک اور مثال ہے کہ صدر کے قریب ترین ساتھیوں میں سے ایک نے روس اور روسیوں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں جھوٹ بولا۔

ریاست نارتھ کیرولائینا سے ریپبلکن جماعت سے تعلق رکھنے والے سینیٹر رچرڈ سن 2016 کے انتخابات میں روسی مداخلت سے متعلق تحقیقات کرنے والی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کی قیادت کر رہے ہیں۔

سینیٹر رچرڈ بر کا کہنا تھا کہ ہمارا مینڈیٹ یہ ہے کہ جس قدر ممکن ہے ہم ایک واضح سچ کے قریب پہنچ جائیں۔ اور یہم یہ کام قیاس آرائیوں کی بنیاد پر نہیں کر سکتے، یہ ہمیں حقائق کی بنیاد پر کرنا ہے۔

اوہائیو سٹیٹ یونیورسٹی سے وابستہ قانونی ماہر، رِک سمنز کہتے ہیں کہ حالیہ پیش رفتوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ روس سے متعلق تحقیقات اپنے عروج پر پہنچ گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں توقع کرتا ہوں کہ آئندہ چند مہینوں کے دوران، کسی قسم کے نتائج سامنے آئیں گے۔ ملر صاحب کے پاس کوئی ٹائم لائن نہیں ہے، اور قانون انہیں اس کا پابند بھی نہیں بناتا، اس لئے ان پر یہ لازم نہیں ہے کہ وہ ہمیں بتائیں کہ وہ کہاں تک پہنچے ہیں، اس لیے یقین سے کوئی بات نہیں کی جاسکتی۔

کوہن کی جانب سے الزام قبول کرنے اور ماضی میں دیگر افراد کے خلاف فرد جرم عائد ہونے کے بعد، روس سے متعلق تحقیقات کے مصدقہ ہونے میں اضافہ ہوا ہے، گو کہ صدر ٹرمپ اسے مسلسل یہ کہتے ہوئے مسترد کرتے آ رہے ہیں کہ یہ محض وقت کا زیاں ہے۔

اس بارے میں قانونی ماہر ڈگ سپینسر کہتے ہیں کہ میرے خیال میں، یہ چیز تحقیقات کو مزید جواز فراہم کرتا ہے، اور درحقیقت اس معاملے میں بہت کچھ غیر واضح ہے، اس لئے تحقیقات کی ضرورت ہے۔ میرے خیال میں اس سے ان دعوؤں کی صداقت میں کمی ہوتی ہےکہ یہ محض چاند ماری ہے۔

قانونی تجزیہ کار، رِک سمنز کہتے ہیں کہ یہ تحقیقات کہاں جا رہی ہیں، اس بارے میں ملر نے چپ سادھی ہوئی ہے، لیکن سن 2019 ایک اہم سال ثابت ہو سکتا ہے۔

سمنز کہتے ہیں کہ انہوں نے ان دیگر گواہان کے ساتھ بہت سا کام کیا ہے جنہوں نے جھوٹ بولا، اور انہوں نے مہینوں ان پر کام کیا۔ اس لئے مجھے توقع ہے کہ وہ آئندہ چند مہینوں میں اس کا کوئی نہ کوئی نتیجہ ضرور نکالیں گے۔

ایک ایسے وقت میں جب کہ ڈیموکریٹ پارٹی نے ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل کر لی ہے اور صدر ٹرمپ، سن 2020 میں اپنے دوبارہ انتخابات کے لئے تیاری کر رہے ہیں، تو یہ تحقیقات اپنے عروج اور اختتام کی جانب بڑھ رہی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG