رسائی کے لنکس

logo-print

چین صدارتی انتخابات میں مجھے ہارتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ


صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ کرونا وائرس سے نمٹنے کی ان کی کوششیں صدارتی انتخابات پر اثر انداز ہوں گی اور نہ ہی یہ کوئی ریفرنڈم ہو گا۔ (فائل فوٹو)

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ صدارتی انتخابات میں چین اُنہیں ہرانا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کو بدھ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ اُنہیں یقین ہے کہ چین اُن کے ڈیموکریٹک مخالف امیدوار کو تین نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں کامیاب کرانے کا خواہش مند ہے۔

صدر ٹرمپ کے بقول، چین چاہتا ہے کہ جو بائیڈن صدارتی انتخابات میں کامیاب ہو جائیں تاکہ اُن کی انتظامیہ نے تجارت اور دیگر معاملات پر بیجنگ پر جو دباؤ ڈالا ہے اسے کم کیا جا سکے۔

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ برس چین کی مصنوعات پر بھاری ٹیکسز عائد کیے تھے اور وہ کرونا وائرس کے باعث امریکہ میں ہلاکتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو پہنچنے والے نقصان کا ذمہ دار بھی چین کو ٹھیراتے رہے ہیں۔

بدھ کو انٹرویو کے دوران انہوں نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ چین کو کرونا وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق دنیا کو جلد آگاہ کر دینا چاہیے تھا لیکن جس طرح بیجنگ نے اس وائرس سے نمٹنے کی کوشش کی وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بیجنگ صدارتی انتخابات میں اُنہیں ہرانے کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے۔

کرونا وائرس سے امریکہ میں لگ بھگ 60 ہزار اموات ہو چکی ہیں اور آٹھ لاکھ سے زیادہ افراد میں اس مرض کی تشخیص ہوئی ہے۔ ملک میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں معطل ہیں اور دو کروڑ سے زائد افراد بے روزگار ہو چکے ہیں۔

صدر ٹرمپ کو ان الزامات کا بھی سامنا ہے کہ انہوں نے کرونا وائرس سے نمٹنے کے اقدامات میں بہت تاخیر کی۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ کرونا وائرس سے نمٹنے کی ان کی کوششیں صدارتی انتخابات پر اثر انداز ہوں گی اور نہ ہی یہ کوئی ریفرنڈم ہو گا۔

انہوں نے اپنے ممکنہ مخالف صدارتی امیداوار جو بائیڈن کی تعریف بھی کی۔ اُن کا کہنا تھا کہ حیران کن طور پر جو بائیڈن بہت اچھا کھیل رہے ہیں۔

صدارتی انتخابات سے متعلق 'رائٹرز' کے تین ریاستوں میں عوامی رائے عامہ کے جائزے پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ کسی پول پر یقین نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کے عوام بہت سمجھ دار ہیں اور ان کے خیال میں رائے عامہ کے جائزے میں جس شخص کا نام سامنے آیا ہے وہ نااہل ہے۔

یاد رہے کہ رائٹرز نے ریاست مشی گن، پینسلوینیا اور وسکونسن میں صدارتی انتخابات سے متعلق عوامی سروے کیا تھا جس کے نتائج کے مطابق 45 فی صد افراد نے جو بائیڈن اور 39 فی صد نے صدر ٹرمپ کی حمایت کی تھی۔ ان تینوں ریاستوں میں 2016 کے صدارتی انتخابات میں صدر ٹرمپ نے کامیابی حاصل کی تھی۔

صدر ٹرمپ نے اپنے مخالف صدارتی امیدوار جو بائیڈن کو سینیٹر اور سابق امریکی صدر براک اوباما کے دورِ حکومت میں بطور نائب صدر رہنے پر تنقید بھی کی۔

انہوں نے کہا کہ جو بائیڈن گزشتہ 30 برس سے ناکام رہے ہیں، انہوں نے اب تک جو کچھ کیا ہے وہ بہت خراب ہے جب کہ ان کی خارجہ پالیسی بھی تباہ کن تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG