رسائی کے لنکس

logo-print

وفاقی ادارے بد امنی کے واقعات کی تحقیقات کریں گے: صدر ٹرمپ


پورٹ لینڈ میں اس مقام پر پھول رکھے گئے ہیں جہاں 39 سالہ ایرون کو گولیاں ماری گئی تھیں۔ (فائل فوٹو)

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی اور محکمہ انصاف (ڈیپارٹمنٹ آف جسٹس) ڈیموکریٹس کے زیرِ انتظام شہروں میں بدامنی کے واقعات کی تحقیقات شروع کر رہے ہیں۔

پیر کو ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مختلف شہروں میں بدامنی کے واقعات پر وفاقی اداروں کی کارروائی میں 200 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان میں 100 افراد کو ریاست اوریگان کے شہر پورٹ لینڈ میں حراست میں لیا گیا۔

وائٹ ہاؤس کے بریفنگ روم میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "ہم امریکہ میں ہجوم کے سامنے سرنڈر نہیں کریں گے۔ ایسا کرنا جمہوریت کی موت کے مترادف ہو گا۔"

صدر نے زور دے کر کہا کہ ہمیں نظم و ضبط کی ضرورت ہے۔

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ڈیموکریٹ پارٹی کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں اُنہوں نے کہا تھا کہ صدر ٹرمپ میں تشدد روکنے کی صلاحیت نہیں، کیوں کہ وہ کئی سال تک اس کی ترغیب دیتے رہے ہیں۔

قبل ازیں سابق نائب صدر جو بائیڈن نے ریاست پنسلواینا کے شہر پٹس برگ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خود سے پوچھیں، کیا میں ایک سخت گیر اشتراکیت پسند لگ رہا ہوں جو فسادیوں کے لیے نرم گوشہ رکھتا ہو؟

جو بائیڈن نے فسادیوں اور لوٹ مار کرنے والوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا مطالبہ بھی کیا۔

صدر ٹرمپ اور جو بائیڈن کے ویژن کتنے مختلف؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:04:12 0:00

انہوں نے انتخابی سیزن میں ڈونلڈ ٹرمپ کو انتشار اور بدامنی کے لیے موردِ الزام ٹھیرایا۔ ان کے بقول صدر اس میں اپنی سیاسی بقا سمجھتے ہیں۔

دونوں صدارتی امیدواروں میں ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ امریکہ میں صدارتی انتخابات سے نو ہفتے قبل سامنے آنا شروع ہوا ہے۔ نیشنل پولنگ میں جو بائیڈن کو صدر ٹرمپ پر برتری حاصل ہے، تاہم سوئنگ اسٹیٹس میں مقابلہ کافی سخت ہے۔

منگل کو صدر ٹرمپ وسکانسن میں کینوشا کا دورہ کر رہے ہیں۔ جہاں گزشتہ ہفتے احتجاج میں اس وقت تشدد کا عنصر شامل ہوا جب ایک سیاہ فام شخص جیکب بلیک اس وقت گولیوں کا نشانہ بن گیا جب پولیس اہل کار اسے گرفتار کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

اسی طرح ایک نوعمر سفید فام پر بھی تین افراد پر فائرنگ کا الزام لگایا گیا ہے۔ اس نوجوان کا کہنا تھا کہ اس نے فائرنگ اپنے کاروبار کی حفاظت کے لیے کی۔

وائٹ ہاؤس میں بریفنگ کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ جیکب بلیک کے اہلِ خانہ سے ملاقات نہیں کریں گے، کیوں کہ اس کے اہل خانہ چاہتے ہیں کہ اس ملاقات میں وکیل بھی موجود ہو۔

انہوں نے کینوشا میں فائرنگ کرنے والے کم عمر نوجوان کائل رئٹن ہاؤس پر تنقید سے بھی انکار کیا۔ کائل ریٹن ہاؤس پر کینوشا میں فائرنگ کرنے کی پانچ سخت دفعات عائد کی گئی ہیں۔

کائل ریٹن ہاؤس کے متعلق بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اس پر انتہائی پر تشدد حملہ کیا گیا تھا۔ اگر وہ فائرنگ نہ کرتا تو اس حملے میں ہلاک بھی ہو سکتا تھا۔

وسکانسن کے گورنر ٹونی ایورز نے صدر ٹرمپ پر زور دیا تھا کہ وہ منگل کو کینوشا کا دورہ نہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کی موجودگی سے ہماری امن و امان کی کوششوں میں رکاوٹ پیدا ہو گی۔

جیکب بلیک کو گولیاں لگنے کے بعد گورنر ٹونی ایورز نے کینوشا میں نیشنل گارڈز کی تعیناتی کا حکم دیا تھا۔ جب کہ تشدد پر قابو پانے کے لیے نفاذ قانون کے وفاقی اداروں کے اضافی اہل کاروں کی معاونت بھی قبول کی تھی۔

پورٹ لینڈ کے مرکزی علاقوں میں 25 مئی سے اس وقت سے وقتاََ فوقتاََ تشدد سامنے آتا رہا ہے، جب منی ایپلس میں پولیس کی تحویل کے دوران ایک سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ ہلاک ہو گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG