رسائی کے لنکس

سپریم کورٹ کی خالی نشست پر خاتون جج کی نامزدگی کا امکان


لوگ جسٹس روتھ بیڈر گنزبرگ کے انتقال کے بعد سپریم کورٹ کی عمارت کے باہر جمع ہیں۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کی جج جسٹس روتھ بیڈر گنزبرگ کے انتقال کے بعد وہ اُن کی جگہ کسی خاتون جج کو ہی اس عہدے کے لیے نامزد کریں گے۔

ہفتے کو شمالی کیرولائنا میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ آئندہ ہفتے سپریم کورٹ کی خالی ہونے والی نشست کے لیے نامزدگی کر دیں گے۔

صدر نے کہا کہ "میرا خیال ہے کہ اس نشست کو پر کرنے کے لیے کسی خاتون کا انتخاب ہونا چاہیے کیوں کہ میں مردوں کے مقابلے خواتین کو کہیں زیادہ پسند کرتا ہوں۔"

صدر ٹرمپ کے اس اعلان کے دوران اُن کے حامیوں نے ''اس نشست کو پر کریں'' کے نعرے لگائے۔

صدر ٹرمپ ان دنوں اپنی انتخابی مہم کے سلسلے میں مختلف ریاستوں کے دورے کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ ان دنوں اپنی انتخابی مہم کے سلسلے میں مختلف ریاستوں کے دورے کر رہے ہیں۔

اس سے قبل صدر دو خواتین ججز کی تعریف کر چکے ہیں جن میں سے کسی ایک کو صدر اس مستقل نشست کے لیے نامزد کر سکتے ہیں۔ مذکورہ خواتین ججز کو اُنہوں نے وفاقی ایپلٹ عدالتوں میں ترقی دی تھی۔

ان میں سے ایک شکاگو کی ساتویں سرکٹ کورٹ آف اپیل کی جج ایمی کونی بیرٹ اوردوسری اٹلاٹنا کی گیارہویں کورٹ آف سرکٹ کی جج باربرا لاگوا ہو سکتی ہیں۔

سپریم کورٹ میں اس وقت قدامت پسند نظریات کے حامل ججوں کو چار کے مقابلے میں پانچ کی برتری حاصل ہے۔ امریکہ میں سپریم کورٹ کے جج کی تعیناتی تاحیات ہوتی ہے۔

جسٹس روتھ بیڈر گنزبرگ 87 سال کی عمر میں جمعے کے روز انتقال کر گئی تھیں۔ وہ کینسر کے مرض میں مبتلا تھیں۔
جسٹس روتھ بیڈر گنزبرگ 87 سال کی عمر میں جمعے کے روز انتقال کر گئی تھیں۔ وہ کینسر کے مرض میں مبتلا تھیں۔

گنزبرگ 27 سال تک امریکی سپریم کورٹ کی جج رہنے کے بعد جمعے کو کینسر کے باعث انتقال کر گئیں تھیں۔ اُنہیں لبرل نظریات کی حامل جج سمجھا جاتا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ قدامت پسند نظریات کی حامل جج تعینات کرانے میں کامیاب ہو گئے تو امریکی سپریم کورٹ میں ان نظریات کے حامل ججز کی تعداد چھ ہو جائے گی۔

لیکن صدر ٹرمپ کو امریکی سینیٹ سے اس کی منظوری لینا ہو گی جہاں ری پبلکن اراکین کو ڈیمو کریٹک پارٹی کے 47 اراکین کے مقابلے میں 53 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG