رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی سپریم کورٹ کی جسٹس روتھ بیڈر گنزبرگ انتقال کر گئیں


جسٹس روتھ بیڈر گنزبرگ 1993 سے سپریم کورٹ میں خدمات سرانجام دے رہی تھیں۔ (فائل فوٹو)

امریکہ کی سپریم کورٹ میں طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والی جسٹس روتھ بیڈر گنزبرگ 87 سال کی عمر میں جمعے کے روز چل بسیں۔ وہ کینسر کے مرض میں مبتلا تھیں۔

گنزبرگ کا شمار ایک باہمت، پرعزم، آزاد خیال اور خواتین کے حقوق کی علم بردار کے طور پر کیا جاتا رہا ہے۔

سپریم کورٹ کے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ گنزبرگ کا انتقال واشنگٹن میں اپنے گھر میں ہوا۔ انتقال کے وقت ان کے خاندان کے افراد ان کے پاس موجود تھے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جان رابرٹس کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہماری قوم ایک تاریخی قد و قامت کی حامل جج سے محروم ہو گئی ہے۔

گنزبرگ 1993 سے سپریم کورٹ میں خدمات انجام دے رہی تھیں۔ سپریم کورٹ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کا انتقال کینسر سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے باعث ہوا۔

انہوں نے جولائی میں کہا تھا کہ جگر کے علاج کے لیے وہ کیموتھراپی کرا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ بھی انہیں صحت سے متعلق کئی مسائل کا سامنا تھا۔

گنزبرگ کے شوہر کا انتقال 2010 میں ہو گیا تھا۔ ان کے دو بچے جین اور جیمز اور کئی پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں ہیں۔

گنزبرگ 1933 میں نیویارک میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے 1959 میں کولمبیا لا اسکول سے قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد نیویارک میں ملازمت شروع کی۔

جسٹس گنزبرگ کے انتقال پر سپریم کورٹ میں قومی پرچم سرنگوں ہے۔
جسٹس گنزبرگ کے انتقال پر سپریم کورٹ میں قومی پرچم سرنگوں ہے۔

وہ کہا کرتی تھیں کہ مردوں کے معاشرے میں خواتین کے لیے ملازمت حاصل کرنا بہت مشکل کام ہے۔

انہوں نے 1972 میں زندگی کے ہر شعبے میں خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کے لیے کام شروع کیا جس میں انہیں بہت پذیرائی ملی۔

گنزبرگ کے انتقال سے ایک اور سیاسی جنگ کو بھی ہوا مل سکتی ہے کہ آیا صدر ٹرمپ کو ان کی جگہ کسی کو نامزد کر کے ری پبلکن پارٹی کی اکثریت رکھنے والی سینیٹ سے منظوری حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یا اس نشست پر تعیناتی کا معاملہ انتخابات کے نتائج تک مؤخر کر دینا چاہیے۔

سپریم کورٹ میں اس وقت قدامت پسند نظریات کے حامل ججوں کو چار کے مقابلے میں پانچ کی برتری حاصل ہے۔ امریکہ میں سپریم کورٹ کے جج کی تعیناتی تاحیات ہوتی ہے۔

نیشنل پبلک ریڈیو کے مطابق انتقال سے چند روز پہلے گنز برگ نے اپنی پوتی کلیرا سپرا کو ایک بیان لکھوایا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ میری سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ میری جگہ سپریم کورٹ میں تعیناتی نئے صدر کے منتخب ہونے تک نہ کی جائے۔

سینیٹ میں ری پبلکن پارٹی کے لیڈر مچ مکونل نے جمعے کو ایک بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے نامزد کیے جانے والے کسی بھی جج کی منظوری کے لیے امریکی سینیٹ میں ووٹنگ کی جائے گی۔

صدر ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ خواتین اور معذروں کے قانونی حقوق سے متعلق گنزبرگ کے مشہور فیصلوں نے امریکیوں کو بہت متاثر کیا ہے۔

جسٹس گنزبرگ، فائل فوٹو
جسٹس گنزبرگ، فائل فوٹو

ڈیموکریٹک پارٹی کے نامزد صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے گنزبرگ کے انتقال پر کہا ہے کہ وہ ہر مسئلے کی تہہ تک پہنچنے والی شخصیت تھیں۔

ان کے بقول انہوں نے ہر امریکی شہری کے آئینی حقوق کا تحفظ اور آزادی کا دفاع کیا۔

جو بائیڈن نے سینیٹ پر زور دیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ میں گنزبرگ کی جگہ نئے جج کی منظوری میں جلد بازی نہ کرے۔

انہوں نے کہا کہ میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں اور مجھے اس بارے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ پہلے عوام کو صدر چننے دیں اور پھر سینیٹ کی منظوری حاصل کرنے کے لیے صدر کسی جج کو نامزد کرے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG