رسائی کے لنکس

logo-print

صدر ٹرمپ نے امیگریشن پر عارضی پابندی کے حکم نامے پر دستخط کر دیے


مرکزی حکومت کی طرف سے 349 ارب ڈالرز کا ریلیف پروگرام جمعے سے شروع ہو گا جس کے تحت چھوٹے کاروبار کرنے والوں کو قرضہ دیا جائے گا۔ (فائل فوٹو)

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سرکاری حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت قانونی تارکین وطن کی امریکہ میں داخلے پر 60 دن کے لیے پابندی عائد کی گئی ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس حکم نامے کا مقصد امریکی شہریوں کے روزگار کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔

اُن کے بقول، امیگریشن پر عارضی پابندی سے یہ یقینی ہو جائے گا کہ امریکہ کی معاشی سرگرمیاں بحال ہونے پر روزگار کے مواقع امریکیوں شہریوں کے پاس ہوں گے۔

بدھ کو صحافیوں سے گفتگو میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اُن کے اس اقدام سے ملک کی طبی سہولیات بھی امریکی شہریوں کے لیے دستیاب ہوں گی۔

صدارتی حکم نامے کے تحت وقتی طور پر امریکہ آنے والوں پر پابندی نہیں ہو گی جب کہ زراعت کے شعبے میں کام کے لیے دیگر ممالک سے آنے والوں کو بھی اس سے استثنیٰ حاصل ہے۔

حکم نامے کے تحت میڈیکل کے ماہرین یا عملے کی بھی امریکہ آمد پر پابندی نہیں ہو گی جب کہ سرمایہ کار بھی امریکہ آ سکیں گے۔

بے روزگار امریکی سرکاری امداد کے منتظر
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:23 0:00

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کی بھی تردید کی کہ کرونا وائرس کی دوسری لہر حالیہ صورت حال کی طرح بری نہیں ہو گی۔ ان کے بقول، اگر اس وبا نے دوبارہ سر اٹھایا تو وہ پہلے کی طرح نقصان دہ نہیں ہو گی۔

یاد رہے کہ کرونا وائرس سے دنیا بھر میں سب سے زیادہ امریکہ متاثر ہے جہاں متاثرہ مریضوں اور ہلاکتوں کی تعداد کسی بھی ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔

امریکہ میں ہلاکتیں 46 ہزار سے زیادہ

جان ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں آٹھ لاکھ 43 ہزار کے قریب افراد وبا سے متاثر ہوئے ہیں جب کہ 47 ہزار کے قریب اموات ہو چکی ہیں۔

امریکہ میں کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی ریاست نیویارک ہے جہاں ویٹرنز افیئرز میڈیکل سینٹر (وی اے) میں طبی عملے کے 1900 اہلکاروں میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کی رپورٹ کے مطابق ویٹرنز افیئرز میڈیکل سینٹر کے عملے کے 20 اہلکار وبا سے ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔

میڈیکل سینٹر کے ملازمین کی تعداد تین لاکھ سے زائد ہے۔ حکام نے چار ہزار کے قریب اہلکاروں کو قرنطینہ میں رکھا ہوا ہے۔

دوسری جانب نیویارک میں سستے وینٹی لیٹرز کی تیاری کا کام بھی شروع کر دیا گیا ہے۔

ایک مکمل وینٹی لیٹر کی تیاری پر ہزاروں ڈالر کا خرچہ آتا ہے تاہم نیو یارک میں مخصوص آلات کے ساتھ چند ڈالرز میں وینٹی لیٹرز بنائے جا رہے ہیں۔ ان وینٹی لیٹرز کو ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

نیویارک کے گورنر پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اُنہیں 30 ہزار وینٹی لیٹرز درکار ہوں گے۔

چھوٹے تاجروں کی قرضے کے لیے درخواستیں

مرکزی حکومت ایک ایسا پرگرام شروع کرنے جا رہی ہے جس سے چھوٹے یا درمیانے درجہ کا کاروبار کرنے والوں کی مدد ہو سکے گی۔

امریکی خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق مرکزی حکومت کی طرف سے 349 ارب ڈالرز کا ریلیف پروگرام جمعے سے شروع ہو گا جسے 'پے چیک پروٹیکشن پروگرام' کا نام دیا گیا ہے۔

اس پروگرام کے تحت چھوٹے کاروبار کرنے والوں کو قرضہ دیا جائے گا۔ یہ پروگرام حکومت کی جانب سے اعلان کردہ 2.2 ٹریلین ڈالرز کے معاشی پیکج کا حصہ ہے۔

بینک آف امریکہ کے مطابق چھوٹے کاروبار کرنے والے 75 ہزار افراد نے 'پے چیک پروٹیکشن پروگرام' کے تحت قرضے کے لیے درخواستیں دی ہیں۔

'اے پی' کے مطابق جمعے سے اس پروگرام کا آغاز ہونے جا رہا ہے تاہم کئی بینک ایسے ہیں جن کی جانب سے شکایت کی جا رہی ہے کہ انہیں پروگرام کی تفصیلات موصول نہیں ہوئی تھیں۔ اس لیے ان کے لیے قرضہ دینے کی درخواستیں وصول کرنا مشکل ہو گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG