رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شعبے


فائل فوٹو

کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے انتہائی ضروری ملازمتوں کے بارے میں ہماری سوچ تبدیل ہوئی ہے۔ ڈاکٹر، نرسز سمیت طبی عملہ، صفائی کرنے والے عملے سمیت ہسپتال کا دیگر عملہ اس وقت انتہائی ضروری عملے میں شمار ہو رہا ہے۔

ایسے ہی بہت سی دوسری ملازمتیں ہیں جو اس وقت انتہائی ضروری شمار ہو رہی ہیں، مگر انہیں کرنے والے کرونا وائرس سے متاثر ہونے کے شدید خطرے میں ہیں۔ کرونا وائرس کی وبا سے جو سب سے زیادہ پیشہ متاثر ہوا ہے وہ ڈاکٹرز، طبی عملہ اور ہسپتال کا دیگر عملہ ہے۔

امریکی حکومت کے ادارے 'سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن 'کے مطابق، صرف اپریل کے شروع تک امریکہ میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد میں سے 11 فیصد افراد کا تعلق طبی شعبے سے تھا۔

اب تک طبی شعبے سے تعلق رکھنے والے وہ افراد جو کرونا وائرس سے ہلاک ہوئے ہیں ان کی تعداد دنیا بھر میں سینکڑوں تک جا پہنچی ہے۔

صرف اٹلی میں اپریل کے پہلے ہفتے تک ایک سو سے زائد ڈاکٹر کرونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔

کرونا وائرس سے متاثر ہونے والی ملازمتوں میں ضروری اشیا کے سامان کے سٹورز یا جنہیں گروسری سٹورز بھی کہا جاتا ہے، ان میں کام کرنے والا عملہ بھی شامل ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے سی این این کے مطابق صرف نیویارک میں گروسری اسٹورز میں کام کرنے والے درجنوں افراد کرونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

ادارے کے مطابق، اگرچہ گروسری اسٹورز کے مالکان ضروری احتیاط بروئے کار لا رہے ہیں، جیسا کہ ماسک کا استعمال، صارفین کی کم تعداد کا ایک ہی وقت میں سٹور میں ہونا اور چھ فٹ کی دوری۔ مگر، بہت سے صارفین کی جانب سے بداحتیاطی کی وجہ سے سینکڑوں گروسری ورکرز اس وقت کرونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ گروسری سٹورز صارفین کا سٹورز میں داخلہ بند کر کے باہر سے ہی انہیں اشیا فراہم کی جائیں۔

گروسری سٹورز ورکرز کے علاوہ خدمات کے شعبے سے تعلق رکھنے والے دیگر ملازمتیں، جیسے زلف تراش، فاسٹ فوڈ میں کام کرنے والے ورکرز، ریستورانوں میں کام کرنے والے اور بینکوں اور دیگر جگہوں پر کیشئیر کا کام کرنے والے بھی شامل ہیں جنہیں عوام کے ساتھ زیادہ رابطہ رکھنا پڑتا ہے۔

ایسے ہی اسکولوں کے کھلنے کی صورت میں اساتذہ کا بھی کرونا وائرس سے متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے بزنس انسائڈر کے مطابق کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں سب سے پہلے خدمات انجام دینے والے کارکنوں کو بھی کرونا وائرس سے متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ ان میں طبی ایمرجنسی کے علاوہ فائر ڈیپارٹمنٹ کے کارکن بھی شامل ہیں۔

صرف ایک امریکی شہر سیاٹل میں 79 فائر فائٹرز کرونا وائرس کی وجہ سے متاثر ہوئے۔ ایسے ہی امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں مارچ کے مہینے میں 73 فائر فائٹر کو قرنطینہ میں رکھا گیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG