رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی تفتیشی طریقہٴ کار اور حراستی پالیسی میں تبدیلی کا عندیہ


’اے بی سی‘ کے ساتھ انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’’ہمیں آگ کی لڑائی میں آگ ہی کے ساتھ لڑنا ہے‘‘۔ مسودہٴ قانون میں گوانتانامو کے فوجی حراستی مرکز کے بارے میں اوباما کے انتظامی احکامات کو ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے بارے میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ’’خراب عناصر کو‘‘ وہیں رکھنا چاہتے ہیں

صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اسلامی انتہاپسندی کے خلاف لڑائی میں اذیت کے طریقہٴ کار کو اپنانے کے معاملے پر اُن کے داخلی اور بیرونِ ملک مخالفین کے درمیان تنازع کھڑا ہوگیا ہے، اور بش کے دور میں تفتیش کی پالیسیوں اور سی آئی اے کی جانب سے ’’سیاہ مقام‘‘ قیدخانوں کے بارے میں ایک شدید بحث چھڑ گئی ہے۔

اے بی سی انٹرویو، جسے بدھ کو نشر کیا گیا، ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’’ہمیں آگ کی لڑائی میں آگ ہی کے ساتھ لڑنا ہے‘‘۔ ایسو سی ایٹڈ پریس اور دیگر خبر رساں اداروں کو حکم نامے کے مسودے کی نقل موصول ہوگئی ہے، جس سے امریکی تفتیش اور حراست کی پالیسی میں بہت سی تبدیلیوں کا پتا لگتا ہے۔

مسودے میں کیوبا میں قائم گوانتانامو بے کے فوجی حراستی مرکز کے بارے میں براک اوباما کے انتظامی احکامات کو ختم کرنے کے لیے کہا گیا ہے، جس مقام کے بارے میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ’’خراب عناصر کو‘‘ وہیں پر بند رکھنا چاہتے ہیں۔

اس میں سفارشات دی گئی ہیں آیا امریکہ کو سی آئی اے کے حراستی مراکز امریکہ سے باہر کھولنے چاہئیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اِن پوشیدہ مقامات کی موجودگی کے نتیجے میں عالمی سطح پر امریکہ کا تاثر خراب ہوتا ہے۔

اس مسودہٴ قانون میں مشتبہ دہشت گردوں کی تفتیش کے طریقہٴ کار کا جائزہ لینے کے لیے کہا گیا ہے اور ترامیم کا مشورہ دیا گیا ہے، جن کی بدولت اذیت کے بارے میں امریکی قانونی بندش کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔

تاہم، اِس سے قبل، جمعرات کو اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے، ایوان ِ نمائندگان اور سینیٹ کے قائدین پال رائن اور مچ مکونیل نے اِس بات کا اعادہ کیا کہ اُن کی رائے میں اذیت کا طریقہٴ کار ناجائز ہے۔

ٹرمپ، جنھوں نے تفتیش کے سخت طریقہٴ کار کی بات کی، کہا ہے کہ نئی پالیسی کی اجازت دینے سے قبل وہ نئے وزیر دفاع جمیز میٹس اور سی آئی اے کے سربراہ مائیک پومپیو سے مشورہ کریں گے۔ تاہم، اُنھوں نے کہا کہ اُنھوں نے انٹیلی جنس کے چوٹی کے اہل کاروں سے پوچھا ہے آیا ’’اذیت کا طریقہٴ کار کارآمد ہے؟ اور اُنھیں یہ جواب ملا ہے کہ ’’ہاں، بالکل‘‘۔

جب اُن سے خصوصی طور پر ’واٹر بورڈنگ‘ کے بارے میں پوچھا گیا، جس تفتیش کے طریقہٴ کار میں پانی میں ڈوبنے کا احساس ہوتا ہے، ٹرمپ نے شدت پسند گروپ کی جانب سے مسیحیوں اور دیگر کے خلاف روا رکھے جانے والے مظالم کا حوالہ دیا اور کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ’’ہر اُس بات پر عمل درآمد کیا جائے جس کی قانونی طور پر اجازت ہے‘‘۔

XS
SM
MD
LG