رسائی کے لنکس

ٹرمپ کا دورہ مشرقِ وسطیٰ، حکمتِ عملی میں تبدیلی کے آثار


امور خارجہ کے ایک ماہر کے مطابق، ''جہاں تک مشرق وسطیٰ کا تعلق ہے، وہ یقینی طور پر اوباما کے دور کی خارجہ پالیسی کو تبدیل کر رہے ہیں، جو اب ڈونالڈ ٹرمپ کے عہد کی پالیسی ہوگی''

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اپنے پہلے نو روزہ بیرونی دورے پر روانہ ہونے والے ہیں، جس دوران وہ ایک خدا میں یقین رکھنے والےدنیا کے تین مذاہب کے مراکز کا سفر کریں گے، جو مشرق وسطیٰ کے بارے میں اُن کے پیش رو کی سوچ کے انداز سے 180 ڈگری مختلف معاملہ ہے۔

'واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فور نیئر ایسٹ پالیسی' کے انتظامی سربراہ، رابرٹ سیٹلوف نے کہا ہے کہ ''صدر ٹرمپ کی حکمتِ عملی کو جانچنے کا ایک ہی آزمودہ کلیہ ہے، وہ یہ ہے کہ وہ اوباما مخالف ہیں''۔

اُنھوں نے کہا کہ ''جہاں تک مشرق وسطیٰ کا تعلق ہے، وہ یقینی طور پر اوباما کے دور کی خارجہ پالیسی کو تبدیل کر رہے ہیں، جو اب ڈونالڈ ٹرمپ کے عہد کی پالیسی ہوگی''۔

وضاحت کرتے ہوئے، سیٹلوف نے کہا کہ ''اوباما نے بامقصد کوشش کی کہ عوام کے ساتھ براہ راست گفتگو کی جائے۔ مشرق وسطیٰ کے اُن کےپہلے دورے میں اُنھوں نے قومی اسمبلیوں اور پارلیمانوں سے خطاب نہیں کیا، بلکہ یونیوسٹیوں میں تقاریر کیں، جہاں وہ اِن اداروں کے سربراہان سے گفتگو کر سکے۔ وہ چاہتے تھے کہ عرب دنیا میں ایک نیا توازن پیدا ہو، جس کے لیے وہ سربراہان کو چھوڑ کر عوام سے مخاطب ہونا چاہتے تھے''۔

سیٹلوف نے کہا کہ ''ٹرمپ اِن تمام باتوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں''۔

پہلا علامتی قیام

اپنے دورے میں ٹرمپ سعودی عرب جائیں گے، جہاں اسلام کے مقدس ترین مقامات ہیں، جہاں بادشاہ سلمان اُن کا استقبال کریں گے، جو خوش آمدید کے لیے 20 ملکی سربراہان کی ایک کمیٹی کو اکٹھا کر رہے ہیں، جو دنیا کی 1.5 ارب سنی مسلک سے تعلق رکھنے والوں کی ایک بڑی تعداد کے نمائندے ہیں۔

ٹرمپ کے مشیر سعودی عرب کے دورے کو مسلمانوں کے ساتھ صدر کے تاثر میں بہتری لانے کا ایک موقع خیال کرتے ہیں، جب کہ انتخابی مہم کے دوران جس قسم کا بیانیہ سامنے آیا اُس کے نتیجے میں اسلام کے خلاف باتیں ہوئیں، جب کہ اُن کی صدارت کا آغاز مسلمان ملکوں سے تعلق رکھنے والے مہاجرین پر عبوری بندش کے اعلان اور چند مسلمان اکثریتی ملکوں کے شہریوں پر ویزا کی پابندی عائد کرنے سے ہوا۔

انسانی حقوق کی برادری کےحلقوں نے یکمشت ہو کر دورے کو اہمیت نہیں دی۔ 'ہیومن رائٹس واچ' سے تعلق رکھنے والے، آندرے پریسو کے بقول ''یقینی طور پر یہ ایک مستقل انداز چلا ہے، کیونکہ ابھی تک آمروں کو ہی وائٹ ہائوس میں خوش آمدید کہا گیا ہے''۔

اپنے پہلے دورے میں امریکہ سے باہر قدم رکھنے سے پہلے، ٹرمپ نے متعدد مطلق العنان مسلمان سربراہان کی میزبانی کی ہے، جن میں مصر کے بھاری بھرکم شخص، عبدالفتح السیسی اور ترکی کے رجب طیب اردوان شامل ہیں۔

'ایٹلانٹک کونسل' کے رچرڈ لبرون، جو کویت میں امریکی سفیر رہ چکے ہیں، کہا ہے کہ دورے سے ''کم ہی توقعات وابستہ ہیں''۔

اُنھوں نے 'وائس امریکہ' کو بتایا کہ ''مسلمانوں کے لیےسفری پابندی کا اقدام حیران کُن نہیں تھا۔ چونکہ، اُنھوں نے ٹرمپ سے اپنے طریقے کی توقعات باندھ لی تھیں''۔

لیکن، یہ تاثر کہ اُنھیں سنی مسلمان بادشاہ، امیر اور صدور تپاک کے ساتھ خیرمقدم کریں گے، امریکی سربراہ کے لیے بہت ہی خوشی کا معاملہ ہوگا، جنھیں داخلی طور پر کئی قسم کے مسائل درپیش ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG