رسائی کے لنکس

logo-print

عدالتِ عظمیٰ کے نامزد جج کی گانگریس کے ارکان سے ملاقات


پینس کے بقول، ’’جیسا کے اُنھیں خوشی ہے، میرے خیال میں، وہ خوب جانتے ہیں کہ عدالت عظمیٰ کے جج کے طور پر امریکہ کے صدر کی جانب سے کی گئی اس تعیناتی پر خود صدر بھی مسرت کا اظہار کر رہے ہیں‘‘

امریکی عدالتِ عظمیٰ کی خالی نشست پر نامزد جج نیل گورسچ نے بدھ کے روز، مروجہ روایات کے عین مطابق، ایوانِ نمائندگان کی عمارت میں قانون سازوں سے ملاقات کی۔

ایسے میں جب وہ ایک سے دوسرے قانون ساز کے دفتر جا رہے تھے، نائب صدر مائیک پینس بھی گورسچ کے ہمراہ تھے۔ سب سے پہلے، اُنھوں نے سینیٹ میں اکثریتی ایوان کے قائد، مِچ مکونیل سے ملاقات کی، جنھوں نے گورسچ کو ’’ایک بہترین نامزدگی‘‘ قرار دیا۔

مکونیل نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ’’ہم سب کو بہت خوشی ہوئی ہے اور ہم منتظر ہیں کہ توثیق کا عمل جلد شروع ہو‘‘۔

پینس نے کہا کہ گورسچ سینیٹ کے تمام ارکان سے گفتگو کرنے کے خواہاں ہیں اور انتظامیہ اس بات کی منتطر ہے کہ سینیٹروں کو جج کے بارے میں ضروری آگہی حاصل ہو۔

پینس کے بقول، ’’جیسا کے اُنھیں خوشی ہے، میرے خیال میں، وہ خوب جانتے ہیں کہ عدالت عظمیٰ کے جج کے طور پر امریکہ کے صدر کی جانب سے کی گئی اس تعیناتی پر خود صدر بھی مسرت کا اظہار کر رہے ہیں‘‘۔

ٹرمپ نے منگل کی شام نامزدگی کا اعلان کرتے ہوئے، جج کے طور پر گورسچ کا تعارف کرایا۔ اُنھوں نے کہا کہ ’’ملک کو آپ کی ضرورت ہے‘‘۔ اُنھوں نے گورسچ کا موازنہ آنجہانی اینٹونن اسکالیا سے کیا، اور توثیق ہونے پر گورسچ اُن کی نشست پُر کریں گے۔

ٹرمپ کے بقول، ’’گورسچ کی دانش کی سطح اعلیٰ ترین ہے۔ اُنھوں نے مثالی قانونی تعلیم حاصل کی ہے، اور آئین کے متن کے عین مطابق تشریح کا عزم رکھتے ہیں‘‘۔

گذشتہ سال سابق صدر براک اوباما نے جج کی خالی نشست کو پُر کیا تھا جن کی نامزدگی کی منظوری ری پبلیکن ارکان نے نہیں دی تھی؛ اس لیے اُن کے نام کی منظوری متنازع ہو سکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG