رسائی کے لنکس

صدر نے جمعے کے روز پھر سماجی میڈیا کا رُخ کیا، اِس دعوے کے ساتھ کہ اِس سے اُن کے اقدام کی تائید ہوتی ہے، اور یہ کہ کومی ’’لیکر‘‘ (راز افشا کرنے والا شخص) ہے

جمعرات کے روز صدر معمول سے ہٹ کر ٹوئٹر سے دور رہے، جس دِن ایف بی آئی کے سابق سربراہ، جمیز کومی نے قانون سازوں کو بتایا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایف بی آئی کی جانب سے روس سے متعلق جاری تفتیش کا ہدف نہیں تھے، صدر نے جمعے کے روز پھر سماجی میڈیا کا رُخ کیا، اِس دعوے کے ساتھ کہ اِس سے اُن کے اقدام کی تائید ہوتی ہے، اور یہ کہ کومی ’’لیکر‘‘ (راز افشا کرنے والا شخص) ہے۔

ٹرمپ نے مئی میں کومی کو عہدے سے ہٹایا، یہ کہتے ہوئے کہ اُن کے ذہن میں ’’روس کا معاملہ تھا‘‘، جب اُنھوں نے ملک کے قانون کے نفاذ کے اعلیٰ ترین ادارے کے سربراہ کو معطل کیا، جو گذشتہ سال کے انتخابات میں روس کی مداخلت کے معاملے کی چھان بین کر رہے تھے۔

کومی نے جمعرات کو کانگریس کی عمارت کے احاطے میں شہادت دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ چاہتے تھے کہ وہ اُن کے قومی سلامتی کے سابق مشیر کے خلاف تفتیش ختم کریں، اور یہ کہ وائٹ ہاؤس کے اہل کاروں نے ’’جھوٹ، صاف اور واضح‘‘ پھیلایا، تاکہ اُنھیں عہدے سے برطرف کیے جانے کے معاملے کو اپنی مرضی کا رنگ دیا جا سکے۔

کومی نے قانون سازوں کو بتایا کہ ’’اس بات میں کوئی شک نہیں کہ روس کے تفتیش کے معاملے پر اُنھیں عہدے سے برطرف کیا گیا‘‘، جس بات سے گذشتہ برس کے امریکی صدارتی انتخابات کے دوران روس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا حوالہ دیا، جس کے بارے میں انٹیلی جنس اداروں نے کہا ہے کہ اس کا مقصد ٹرمپ کی مد مقابل امیدوار، ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنےوالی سابق امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کو انتخابی شکست دینے میں مدد کرنا تھا۔

کومی نے کہا کہ روس کے بارے میں تفتیش کے طریقہٴ کار کو تبدیل کرنے کی صدر کی کوششیں ایک بڑا مسئلہ ہے۔

سینیٹ کی سماعت کے فوری بعد، صدر کے ذاتی وکیل، مارک کساوٹز نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ٹرمپ نے ’’کبھی، کسی شکل یا صورت میں ٕ مسٹر کومی کو مشورہ یا ہدایت نہیں دی کہ وہ کسی کی تفتیش روک دیں‘‘۔


کومی کی اچانک اور حیران کُن برطرفی کے بعد، گذشتہ ماہ ٹرمپ اور اُن کے مشیروں نے کہا تھا کہ یہ اقدام اِس لیے لازم ہوگیا تھا کہ ’فیڈریل بیورو آف انویسٹی گیشن‘ بدنظمی کا شکار تھا، اور اُس کے سربراہ نے اپنے ایجنٹوں کا اعتماد کھو دیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG