رسائی کے لنکس

logo-print

ایران کے خلاف معاشی تعزیرات مزید سخت کی جائیں گی: ٹرمپ


امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی ’’بدعنوان اور مطلق العنان حکومت‘‘ پر نومبر میں تعزیرات مزید سخت کی جائیں گی؛ اور ایران کو جوہری ہتھیار تشکیل دینے کی ہرگز اجازت نہیں دی جاسکتی، جو بقول اُن کے، ’’خطے اور دنیا کے لیے خطرے کا باعث بنی ہوئی ہے‘‘۔

منگل کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے، اُنھوں نے کہا کہ ایران کی حکومت شام اور یمن سمیت کئی ملکوں میں ’پراکسی لڑائی‘ جاری رکھے ہوئے ہے، جہاں ایران کا ایک ہی مقصد ہے کہ اپنے مخالفین، جن میں امریکہ اور اسرائیل شامل ہے، ’’تباہ و برباد‘‘ کیا جائے۔

ٹرمپ نے کہا کہ 2015ء کا جوہری معاہدہ ایران کے لیے سودمند ثابت ہوا، جس کے نتیجے میں اُس کی دولت میں بے انتہا اضافہ ہوا، جسے ایران نے جوہری ہتھیار تشکیل دینے، جن میں میزائل شامل ہیں، استعمال کیا‘‘۔

امریکی صدر نے عالمی برادری پر زور دیا کہ ایران کو تنہا کرنے کے لیے ایران کے خلاف عائد معاشی پابندیوں کو سخت کیا جائے۔

اُنھوں نے کہا کہ ایران ’’اپنے ہمسایوں یا اُن کی سرحدوں یا ملکوں کے اقتدار اعلیٰ کے حقوق کی حرمت کا خیال نہیں کرتا۔ برعکس اس کے، ایرانی رہنما اپنے ذاتی بھلے کے لیے قوم کے وسائل کی لوٹ مار کرتے ہیں؛ جب کہ وہ مشرق وسطیٰ اور دور تک تخریب کاری پھیلا رہے ہیں‘‘۔

صدر نے کہا کہ ’’ایران دنیا میں ہونے والی دہشت گردی کا سرکردہ سرپرست ہے، جب کہ اس کے پاس دنیا کے خطرناک ترین ہتھیار ہیں۔ ہم ایسی حکومت کی اجازت نہیں دے سکتے جو امریکہ کی ہلاکت اور اسرائیل کو نیست و نابود کرنے کی دھمکیاں دیتی ہے‘‘

اس سے قبل عالمی ادارے میں آمد پر اخباری نمائندوں بات کرتے ہوئے، اُنھوں نے کہا کہ اُن کی ایرانی صدر حسن روحانی کے ساتھ ملاقات نہیں ہوگی۔ تاہم، اُنھوں نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ وہ آئندہ کسی ملاقات پر تیار ہو سکتے ہیں، حالانکہ ایران کے جوہری معاہدے پر تناؤ برقرار ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ کسی قسم کی دوطرفہ بات چیت سے قبل لازم ہے کہ ایرانی رہنما ’’اپنا انداز تبدیل‘‘ کریں۔ تاہم، اُنھوں نے کہا کہ وہ مستقبل میں ’’بہترین تعلقات کی توقع‘‘ رکھتے ہیں۔

دونوں ملکوں کے صدور نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔

اس سال مئی میں جب ری پبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے امریکی صدر نے 2015ء میں ایران کے ساتھ ہونے والے بین الاقوامی جوہری سمجھوتے سے امریکہ کو الگ کر لیا تھا، تب سے دونوں ملکوں کے مابین تناؤ کا سلسلہ بڑھتا رہا ہے؛ جب کہ کئی عشروں سے دونوں مملکوں کے تعلقات مخاصمانہ رہے ہیں۔

جوہری معاہدہ ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے امریکی صدر براک اوباما کے دور میں طے ہوا تھا، جس کے تحت ایران کی جانب سے جوہری پروگرام کو ترک کرنے کے بدلے زیادہ تر بین الاقوامی تعزیرات اٹھائی گئی تھیں۔

شمالی کوریا کے ساتھ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے، صدر ٹرمپ نے کہا کہ شمالی کوریا کے صدر کم جون اُن سے ملاقات کے بعد تعلقات میں خاصہ پیش رفت سامنے آئی ہے، اور جب کہ جوہری اسلحے کو تلف کیے جانے تک، شمالی کوریا کے خلاف تعزیرات جاری رہیں گی۔

داعش کے بارے میں امریکی صدر نے کہا کہ عراق اور شام میں قدامت پسند اسلامی دہشت گردی کا قلع قمع کیا گیا ہے، جب کہ مشرقی وسطیٰ کے ملکوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے انسداد کے لیے شدت پسندوں کو رقوم کی فراہمی کا سلسلہ بند کیا جائے گا؛ جس کے لیے ضروری قانونی اقدامات کیے جاچکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG