رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ تارکین وطن کا کیمپ نہیں بنے گا: ٹرمپ


امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا ہے کہ غیر قانونی طور پر امریکی سرحد پار کرنے والے تارکین وطن کے والدین سے بچوں کو جدا کرنے کا عمل ''افسوس ناک'' ہے، لیکن پالیسی کو تبدیل کرنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا۔

ٹرمپ نے کہا کہ ''سرحد کے بغیر کوئی ملک، ملک نہیں رہتا۔ ہم اپنے وطن کے تحفظ اور سلامتی کے خواہاں ہیں۔۔۔اور ملک سرحد سے شروع ہوتا ہے''۔

امریکی سربراہ نے کہا کہ امریکہ ''تارکین وطن کا کیمپ'' یا ''مہاجروں کے قیام کی تنصیب'' نہیں بنے گا۔

ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ''میرے ہوتے ایسا نہیں ہوگا''۔

ٹرمپ نے امریکی امی گریشن پالیسیوں پر پیدا ہونے والے تعطل کا ذمہ دار حزب مخالف ڈیموکریٹک پارٹی کے قانون سازوں کو قرار دیا، حالانکہ ٹرمپ کی ری پبلیکن پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں کو کنٹرول کرتی ہے، اور خاندان سے متعلق سرحدی پالیسیاں اُنہی کی انتظامیہ تشکیل دیتی ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ ''میں انتہائی سختی سے کہتا ہوں کہ یہ ڈیموکریٹس کا قصور ہے۔''

اُنھوں نے کہا کہ سرحدی پالیسیوں کا فوری بندوبست ہو سکتا ہے اگر اکثریتی ری پبلیکن پارٹی کے ساتھ مذاکرات کے لیے ڈیموکریٹس میز پر آئیں، جو تارکین وطن کے معاملے پر داخلی طور پر منقسم ہیں۔

ٹرمپ نے یہ بات وائٹ ہائوس میں خطاب کرتے ہوئے کی، ایسے میں جب پالیسی کے سخت نفاذ پر ری پبلیکن اور ڈیموکریٹ قانون سازوں نے ٹرمپ اور اُن کی انتظامیہ پر نکتہ چینی کی ہے، جس سے اپریل کے وسط سے مئی کے اواخر تک غیر قانونی تارکین وطن کے خاندان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئے اور تقریباً 2000بچے حراستی مراکز کی طرف بھیجے گئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG