رسائی کے لنکس

قطر کے سفارتی بحران کا حل، ٹرمپ کی مصالحت کی پیش کش


وائٹ ہاؤس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’فریق کے مابین اختلافات کو سلجھانے کے لیے صدر نے مدد کی پیش کش کی، جس میں، اگر ضروری ہوا تو وائٹ ہاؤس کے ساتھ ملاقات شامل ہوگی‘‘

قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ہمسایوں کے ساتھ جاری قطر کے سفارتی بحران کے معاملے پر ثالثی کی پیش کش کی ہے۔


ٹیلی فون پر ہونے والی اس بات چیت پر فراہم کردہ متن کے مطابق ’’صدر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کو شکست دینے اور علاقائی استحکام کو فروغ دینے کے لیے، ایک متحد خلیج تعاون کونسل اور ایک مضبوط متحدہ امریکہ خلیج کواپریشن کونسل کی پارٹنرشپ ضروری ہے‘‘۔


بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’فریق کے مابین اختلافات کو سلجھانے کے لیے صدر نے مدد کی پیش کش کی، جس میں، اگر ضروری ہوا تو وائٹ ہاؤس کے ساتھ ملاقات شامل ہوگی‘‘۔


ٹرمپ کی پیش کش سے پہلے، امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے اس ہفتے کے اوائل میں کہا تھا کہ امریکہ خلیج تعاون تنظیم کو ’’متحد رکھنے‘‘ کے حوالے سے مدد فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔


پیر کے روز، سعودی عرب، مصر، بحرین، متحدہ عرب امارات، یمن اور مالدیپ نے قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کردیے تھے، یہ الزام لگاتے ہوئے کہ وہ دہشت گردی کی حمایت کرتا ہے۔


وائٹ ہاؤس نے بتایا ہے کہ سعودی شاہ سلمان بن عبد العزیز السعود سے منگل کے روز ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو میں، ٹرمپ نے خلیج کے علاقےمیں اتحاد کی حوصلہ افزائی کی۔


اس سے قبل، دِن کے وقت، صدر نے خطے میں دہشت گردی کی سرپرستی کرنے کے معاملے پر ایران اور شدت پسند گروہوں کی حمایت کے مبینہ الزام پر، قطر اور اہم عرب ملکوں کے درمیان سفارتی تلخی میں کمی لانے کے معاملے پر بات کی۔


منگل کے روز ٹوئٹر پر تین پوسٹوں میں، ٹرمپ نے قطر کو اکیلا کرنے کے سعودی اقدام کا سہرا اپنے نام کیا۔ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کا سب سے بڑا اڈا دوحہ میں قائم ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG