رسائی کے لنکس

امریکہ: عرب ملکوں کے درمیان مصالحت کرانے کی پیش کش


فائل

امریکہ نے کہا ہے کہ وہ خلیجی عرب ممالک کے مابین جاری اختلافات حل کرانے کے لیے کردار ادا کرنے پر تیار ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن اور وزیرِ دفاع جِم میٹس نے کہا ہے کہ بعض عرب ممالک کی جانب سے قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے فیصلے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ متاثر نہیں ہوگی۔

اس سے قبل پیر کو سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے قطر پر دہشت گردوں کو مدد دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس کے ساتھ سفارتی تعلقات اور زمینی، فضائی اور سمندری رابطے منقطع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

قطر کے تعلقات خطے کی دیگر عرب ریاستوں اور سعودی عرب کے ساتھ گزشتہ کچھ برسوں سے تناو کا شکار چلے آ رہے ہیں جس کی وجہ قطر کے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات اور اخوان المسلمین جی اسلامی تحریکوں کی حمایت ہے جسے خلیجی ملکوں کے حکمران اپنے اقتدار کے لیے خطرہ تصور کرتے ہیں۔

پیر کو سڈنی میں آسٹریلوی اور امریکی وزرائے خارجہ و دفاع کی مشترکہ ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ریکس ٹلرسن نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ عرب ملکوں کے اس فیصلے سے دہشت گردی کے خلاف خطے اور بین الاقوامی سطح پر جاری لڑائی پر کوئی فرق پڑے گا۔

امریکی وزیرِ خارجہ نے خلیج تعاون کونسل کے رکن ملکوں پر زور دیا کہ وہ اپنے اختلافات طے کریں اور پیش کش کی کہ امریکہ اس ضمن میں ان ملکوں کی مدد کرنے پر تیار ہے۔

امریکہ کی سربراہی میں شدت پسند تنظیم داعش کے خلاف مشرقِ وسطیٰ میں جاری عالمی اتحاد کی کارروائیوں میں خلیجی ممالک کا بنیادی کردار ہے اور تنازع کے دونوں فریقوں کے ساتھ امریکہ کے قریبی دفاعی تعلقات قائم ہیں۔

امریکہ کاپانچواں بحری بیڑہ بحرین میں تعینات ہے جہاں سے امریکی بحریہ مشرقِ وسطیٰ اور وسطِ ایشیا کے پانیوں میں گشت کرتی ہے۔ جب کہ قطر کے العدید نامی ہوائی اڈہ پر امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کا مرکزی دفتر قائم ہے جہاں سے اڑنے والے امریکی فضائیہ کے طیارے خطے میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کرتے آئے ہیں۔

العدید کے فوجی مرکز پر لگ بھگ 10 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG