رسائی کے لنکس

logo-print

سپراس اوباما ٹیلیفون گفتگو، یونان کے بحران پر تبادلہٴخیال


دیگر یورپی قائدین کا خیال ہے کہ اتوار کی ووٹنگ کے باوجود، یونان کے ساتھ کفایت شعاری کی شرائط پر مزید قرضوں کے لئے بات چیت ہونی چاہئے۔۔ ادھر، امریکہ نے کہا ہے کہ وہ یونان کو یورپی کرنسی کے دائرے میں رکھنے کے لئے اس کے قرضوں کے بحران کا فوری حل چاہتا ہے

یونانی وزیر اعظم الیگز سپراس نے منگل کو یورو زون اجلاس سے پہلے ٹیلی فون پر امریکی صدر براک اوباما سے گفتگو کی اور انھیں نئے قرضے کے حصول کے لئے مجوزہ درخواست کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے، رائڑز نے یونان کے سرکاری حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ صدر اوباما نے اس یقین کا اظہار کیا کہ یورو زون کے ساتھ مذکرات کے نتائج کامیاب ہوں گے۔ امریکہ نے کہا ہے کہ وہ یونان کو یورپی کرنسی کے دائرے میں رکھنے کے لئے اس کے قرضوں کے بحران کا فوری حل چاہتا ہے۔

یورو کرنسی کے 19 ممالک برسلز میں مل رہےہیں، تاکہ بااعتماد مالی منصوبہ بندی کے لئے یونان پر دباؤ بڑھا سکیں۔

یورپی یونین کے سربراہ، ڈائی جسلبوم کی یہ رائے یونین کے دیگر اراکین کے توسط سے سامنے آئی ہے کہ یونین کو موجودہ صوررتحال میں یونانی حکومت کی بات سننی پڑے گی، تاکہ دیکھا جائے کہ وہ کیا سوچ رہے ہیں اور ان کے نزدیک مسئلے کا حل کیا ہے۔

تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ عوام کی جانب سے شرائط کو یکسر مسترد کئے جانے کے بعد، یونان اور دیگر یورپی ممالک کے درمیان مشترکہ نکات کو تلاش کرنا انتا آسان نہ ہوگا۔

یورپی یونین کے وزرائے خزانہ نے منگل کو برسلز مذاکرات سے پہلے ایک باہمی ملاقات کی اور حکمت عملی کو حتمی شکل دی۔ برسلز میں ہونے والے ان مذاکرات میں توقع ہے کہ یونانی وزیر اعظم الیگز سپرس نئے بیل آوٹ کے لئے یونین کے سامنے نئی تجاویز پیش کریں گے۔

گزشتہ ہفتے، آئی ایم ایف کو قرض کی قسط کی ادائیگی میں ناکامی کے بعد ایتھنز کو 20 جولائی تک یورپی یونین سنٹرل بینک کو 3 ارب 80 کروڑ ڈالر کی دوسری قسط ادا کرنا ہے۔ اگر یہ ادائیگی نہ ہوئی تو یونان کا بڑھتا ہوا مالی بحران مزید سنگین ہوجائے گا۔

قبل ازیں فرانس کے وزیر اعظم مینوئل والس نے کہا ہے کہ ایتھنز کے ساتھ کسی معاہدے پر متفق ہونا ضروری ہے، فرانس سمجھتا ہے کہ معاشی طور پر اور خصوصی طور پر سیاسی بنیاد پر یونان کے یونین سے علیحدگی کا خطرہ نہیں مول لیا جاسکتا۔

امریکہ، چین اور جاپان نے بھی یونان کو یورپی یونین میں رکھنے کے لئے مسئلے کے حل پر زور دیا ہے۔ لیکن، یورو زون کے اراکین اس مسئلے پر تقسیم ہیں اور سوال کرتے ہیں کہ انھیں کب تک ہمیں صورتحال میں مفاہمت پر مجبور ہوتے رہنا پڑے گا۔

یونانی وزیر اعظم سپراس نے قرض خواہوں سے 100 ارب ڈالر کے قرضے معاف کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور ان کا یہی مطالبہ پورپی یونین سربراہ اجلاس کا مرکزی نکتہ ہے۔

فن لینڈ کے مالیات کے وزیر، الیگزنڈر اسٹب نے یونان کے قرضے معاف کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یورپی یونین پہلے ہی 2007ءاور اس کے بعد 2012 ء میں ان کے تمام قرضے معاف کرچکی ہے۔

چیکوسلاواکیہ کے وزیر خزانہ پیٹر کازمیر کہتے ہیں کہ انھیں شک ہے کہ اس بات چیت کا کوئی نتیجہ نکل سکےگا۔

دیگر یورپی قائدین کا خیال ہے کہ اتوار کی ووٹنگ کے باوجود یونان کے ساتھ کفایت شعاری کی شرائط پر مزید قرضوں کے لئے بات چیت ہونی چاہئے۔

تاہم، حکام نے یونانی وزیر اعظم پر واضح کردیا ہےکہ انھیں موجودہ معاشی پالیسیوں کے برعکس، یونانی معیشت کی بحالی کا کوئی بااعتماد منصوبہ پیش کرنا ہوگا، جس کے نتیجے میں، کام کرنے والی افرادی قوت کی ایک چوتھائی بیروزگار ہوگئی ہے۔ بینک ایک ہفتے کے لئے بند ہیں اور بنکوں سے ایک دن میں صرف 60 ڈالر ہی نکلوانے کی اجازت ہے۔

XS
SM
MD
LG