رسائی کے لنکس

logo-print

ٹلسا میں صدر ٹرمپ کی ریلی روکنے کی اپیل سپریم کورٹ میں مسترد


صدر ٹرمپ نارتھ کیرولائنا کے شہر شارلے میں اپنی انتخابی ریلی میں تقریر کر رہے ہیں۔ 2 مارچ 2020

اوکلاہاما کی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کے خلاف دائر کی جانے والے وہ اپیل مسترد کر دی ہے جس میں استدعا کی گئی تھی کہ صحت عامہ کے خدشات کے پیش نظر صدر ٹرمپ کو ٹلسا میں ریلی نکالنے سے روکا جائے۔

صدر ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے ریلی نکالنا چاہتے ہیں۔ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث مارچ میں انتخابی ریلیاں اور جلسے منسوخ کر دیے گئے تھے۔

یہ سال امریکہ میں صدارتی انتخابات کا سال ہے۔ نومبر میں ہونے والے انتخابات میں اب بہت کم وقت باقی رہ گیا ہے۔ صدر ٹرمپ اپنی دوسری مدت کے لیے انتخابی اکھاڑے میں اتر رہے ہیں جہاں ان کا مقابلہ ڈیموکریٹ پارٹی کے جو بائیڈن سے ہونے کی توقع ہے۔

کرونا وائرس کے بڑے پیمانے پر پھیلاؤ، بے روزگار کی شرح میں تاریخی اضافے اور پولیس کی تحویل میں سیاہ فام امریکیوں کی ہلاکتوں کے واقعات کے بعد پھوٹ پڑنے والے مظاہروں نے صدر ٹرمپ کے لیے ایک مشکل صورت حال پیدا کر دی ہے۔

ری پبلیکن جج، جسٹس ڈسٹن روئے نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ عدالت کی یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ محض اپنی خواہش کا نتیجہ حاصل کرنے کے لیے قوانین یا ضابطوں کا استعمال کریں۔

صحت کے مقامی حکام نے خدشات ظاہر کیے تھے کہ ہجوموں اور جلسہ گاہوں میں کرونا وائرس پھیل سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے جمعے کے روز کہا کہ ٹلسا کے میئر شہر پر نافذ کرفیو کی پابندیاں اٹھانے پر رضامند ہو گئے ہیں، جن کی وجہ سے صدراتی ریلی میں شرکت کے لیے ان کے حامیوں کو مشکل کا سامنا تھا۔

انہوں نے اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ میں نے ابھی تلسا کے قابل احترام میئر جی ٹی بےنوم سے بات کی ہے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ آج رات یا کل ریلی میں شرکت کرنے والے ہمارے حامیوں کے لیے کرفیو نہیں ہو گا۔بہت شکریہ میئر بےنوم۔

میئر نے اس خدشات کے پیش نظر کہ ریلی میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد آ سکتے ہیں اور اس مہینے کے شروع میں شہر اور ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں اور بدامنی کے واقعات کے خلاف احتجاج کر سکتے ہیں، کرفیو لگا دیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG