رسائی کے لنکس

کیا سیاہ فام خاتون نائب صدر کے انتخاب کا وقت آگیا؟


امریکہ کے سیاسی حلقوں میں اس بارے میں بحث و مباحثہ جاری ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن نائب صدارت کے لیے کس رہنما کا انتخاب کریں گے۔

بائیڈن کہہ چکے ہیں کہ وہ ایک خاتون کو نامزد کریں گے۔ لیکن اب یہ مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے کہ وہ کسی سیاہ فام خاتون کے نام کا اعلان کریں۔

ڈھائی سو سال کی تاریخ میں کبھی کوئی خاتون امریکہ کی صدر یا نائب صدر منتخب نہیں ہوئیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی نے 1984 میں جیرالڈائن فرویو کو نائب صدارت اور 2016 میں ہلیری کلنٹن کو صدارت کے لیے نامزد کیا تھا۔ ری پبلکن پارٹی نے 2008 میں سارہ پیلن کو نائب صدارت کا امیدوار بنایا تھا۔ یہ تینوں سفید فام خواتین تھیں۔

اپریل میں ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی 200 سیاہ فام خواتین ایکٹوسٹس نے جو بائیڈن کو خط لکھ کر مطالبہ کیا تھا کہ وہ کسی سیاہ فام خاتون کو نائب صدارت کے لیے نامزد کریں۔ مئی میں ان میں سے درجن بھر خواتین نے بائیڈن اور ان کی ٹیم کے ساتھ ٹیلی کانفرنس میں اپنا مطالبہ دوہرایا۔ جو بائیڈن نے فی الحال کوئی وعدہ نہیں کیا لیکن سیاسی مبصرین کے مطابق وہ یقینی طور پر دباؤ محسوس کررہے ہوں گے۔

حال میں پولیس حراست میں سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد ملک بھر میں نسلی تعصب کے خلاف احتجاج پھوٹ پڑا اور سیاسی صورتحال تیزی سے رنگ بدلنے لگی۔ اب کئی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جو بائیڈن کسی سیاہ فام خاتون کے ساتھ الیکشن لڑیں تو ان کی کامیابی کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

امریکی میڈیا میں جن سیاہ فام خواتین کو ممکنہ امیدوار کے طور پر دیکھا جارہا ہے، ان میں کملا ہیرس، کیشا لانس بوٹمز، ویل ڈیمنگز، سوزن رائس اور اسٹیسی ابرامز شامل ہیں۔

کیلی فورنیا کی سینیٹر کملا ہیرس کا نام اس فہرست میں سب سے اوپر ہے۔ وہ صدارتی نامزدگی کے لیے بھی امیدوار تھیں۔ لیکن انھوں نے اپنی مہم جلدی ختم کردی تھی۔ سینیٹر بننے سے پہلے چھ سال تک وہ کیلی فورنیا کی اٹارنی جنرل رہیں۔ زیادہ ووٹوں والی ریاست سے تعلق اور جارج فلائیڈ کی ہلاکت پر مسلسل آواز بلند کرنے کی وجہ سے انھیں بہتر امیدوار سمجھا جارہا ہے۔

کیشا لانس بوٹمز قانون داں اور ریاست جارجیا کے شہر اٹلانٹا کی مئیر ہیں۔ انھیں منفرد تجربہ حاصل ہے کیونکہ وہ ریاست کے تینوں ستون سمجھے جانے والے شعبوں میں کام کرچکی ہیں۔ پہلے وہ جج رہیں، پھر سٹی کونسل کی رکن بنیں اور اب انتظامیہ کی سربراہ ہیں۔

ویل ڈیمنگز فلوریڈا کی رکن کانگریس ہیں۔ وہ اورلینڈو کی شیرف رہ چکی ہیں اس لیے پولیس اصلاحات کے لیے ان کی آواز غور سے سنی جارہی ہے۔ وہ بتا چکی ہیں کہ جو بائیڈن کی ٹیم نے ان سے رابطہ کیا ہے اور بیلٹ پیپر پر ان کا نام آنے کے امکانات روشن ہیں۔

سوزن رائس 2009 سے 2013 تک وہ اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر تھیں اور اس کے بعد چار سال تک صدر براک اوباما کی قومی سلامتی کی مشیر رہیں۔ صدر کلنٹن کے دور میں وہ نائب وزیر خارجہ تھیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بعض سیاسی تنازعات کی وجہ سے انھیں نظرانداز کیا جاسکتا ہے۔

اسٹیسی ابرامز کا تعلق ریاست جارجیا سے ہے اور وہ ریاستی ایوان کی 2007 سے 2017 تک رکن رہ چکی ہیں۔ 2011 کے بعد وہ اپوزیشن لیڈر تھیں۔ وہ ووٹوں کے حقوق کی ایکٹوسٹ ہیں اور اس شعبے میں ان کے کام اور ایوان میں ان کی کارکردگی کی بنا پر انھیں ممکنہ امیدوار کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG