رسائی کے لنکس

logo-print

تیونس میں نئی عبوری حکومت کے خلاف مظاہرے


تیونس میں نئی عبوری حکومت کے خلاف مظاہرے

تیونس میں پولیس نے منگل کے روز دارالحکومت میں مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے آنسوگیس کے گولوں کا استعمال کیا۔

کئی سو افراد نے نئی حکومت کے انتخاب کے خلاف، جن میں سابق صدر زین العابدین بن علی کی حکمران جماعت کے بہت سے ارکان شامل ہیں،سڑکوں پر مظاہرہ کیا۔

اس سے ایک روز قبل ایک ہزار سےزیادہ افراد نے دارالحکومت کی سڑکوں پرسابق حکمران جماعت کے مکمل انخلا کے لیے مظاہرے کیے۔ سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے پانی اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔

سرخ نشانات مظاہروں کے مقامات کو ظاہر کرتے ہیں۔
سرخ نشانات مظاہروں کے مقامات کو ظاہر کرتے ہیں۔

تیونس میں اب مظاہرے وزیراعظم محمد الغنوچی کی جانب سے، جو سابق صدر بن علی کے ایک قریبی ساتھی ہیں، اتحادی کابینہ کے ناموں کے اعلان کے بعد ہورہے ہیں جس میں دفاع، داخلہ، خارجہ اور خزانے کے موجودہ وزراء کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی تین شخصیات کو، جن میں حزب اختلاف کے سب سے بڑے اوربااثر گروپ پروگریسو ڈیموکریٹک پارٹی کے بانی نجیب چیبی شامل ہیں،کابینہ میں کم تر اہمیت کے محکمے دیے گئے ہیں۔

کمیونسٹ اور اسلامی جماعتوں کو، جن پر پابندی عائد ہے، اتحادی حکومت سے باہر رکھا گیا ہے اور ان کے عہدے داروں نے نئے اتحاد کو مسترد کردیا ہے۔

XS
SM
MD
LG