رسائی کے لنکس

پاک ترک اسکول کے اساتذہ کی ملک بدری روکنے کا حکم


ترک اساتذہ کی ملک بدری کے خلاف اسلام آباد میں مظاہرہ۔

عدالت نے درخواست کی ابتدائی سماعت کے بعد حکومت پاکستان کو حکم دیا ہے کہ ترک اساتذہ اور ان کےخاندانوں کو تحفظ فراہم کیا جائے اور انہیں فی الحال پاکستان سے ڈی پورٹ نہ کیا جائے۔

سندھ ہائی کورٹ نے پاک ترک اسکول کے 8 اساتذہ کی جانب سے دائر درخواست پر ان کی ملک بدری روکتے ہوئے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ انہیں تحفظ فراہم کیا جائے۔

سندھ ہائی کورٹ میں پاک ترک اسکول کراچی کے اساتذہ اور ان کے خاندانوں کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ اساتذہ گذشتہ کئی برسوں سے یہاں مقیم ہیں اور کراچی کے طالب علموں کو بہترین تعلیم فراہم کررہے ہیں۔

آئینی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت پاکستان باقاعدگی سے ان کے ویزے میں توسیع بھی کررہی تھی لیکن رواں سال ویزے کی توسیع کے لئے دی گئی درخواست بغیر وجہ بتائے مسترد کردی گئی اور حکام نے انہیں ملک چھوڑنے کے احکامات جاری کردیے گئے۔

عدالت میں دائر درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ ان اساتذہ کو خدشہ ہے کہ ترکی واپس جانے پر انہیں ترک حکومت فتح گولن تحریک کی حمایت کے إلزام میں گرفتار کرلے گی حالانکہ ان کا اس تحریک سے کوئی تعلق نہیں۔ جبکہ وہ پاکستان میں فی الحال اقوام متحدہ کے پناہ گزین کی حیثیت سے قیام پذیر ہیں۔

عدالت میں درخواست گزاروں کے وکیل عبدالمجید کھوسو نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی احکامات کے باوجود بھی ان اساتذہ کو ڈی پورٹ کیا جا رہا ہے اور انہیں مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ ملک چھوڑ دیں۔

درخواست میں وفاقی حکومت، وفاقی تحقیقاتی ایجنسی، آئی جی سندھ اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ نے ایسی ہی ایک الگ آئینی درخواست پر دو ترک اساتذہ کو واپس ترکی بھیجنے سے حکام کو روک دیا تھا۔ اس درخواست پر دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا جا چکا ہے۔

عدالت نے درخواست کی ابتدائی سماعت کے بعد حکومت پاکستان کو حکم دیا ہے کہ ترک اساتذہ اور ان کےخاندانوں کو تحفظ فراہم کیا جائے اور انہیں فی الحال پاکستان سے ڈی پورٹ نہ کیا جائے۔

عدالت نے وفاقی حکومت، وفاقی تحقیقاتی ایجنسی اور دیگر کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے مزید سماعت 10 اکتوبر تک ملتوی کردی ہے۔

درخواست گزاروں میں ترک استاد علی یلماز، انکی اہلیہ فاطمہ، عبدالغنی گلمیز، ریسپ لیسن، یٰسین اولوسنار اور دیگر شامل ہیں۔

چند روز قبل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان اساتذہ کا کہنا تھا کہ اگر حکومت پاکستان نے انہیں ڈی پورٹ کیا تو ترکی میں ان کا مقدر جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوگا۔

یہ اساتذہ ترک راہنما فتح گولن کی حکومت مخالف تحریک سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کرتے آئے ہیں۔

دوسری جانب لاهور سے ترک ماہر تعلیم میسوت کاچماز اہل خانہ کے ہمراہ لاپتا ہیں جن کے بارے میں اب تک کچھ معلوم نہیں ہو سکا۔

حکام کی جانب سے ان کے اغوا یا گرفتاری کی کوئی تصدیق یا ترديد نہیں کی گئی۔ میسوت کاچماز بھی ان اساتذہ میں شامل ہیں جو اپنے ملک واپس جانے کے بجائے پاکستان ہی میں قیام چاہتے ہیں اور وہ بھی اقوام متحدہ کے پناہ گزین کی حیثیت سے پاکستان میں مقیم تھے۔ حکومت پاکستان ان اساتذہ کو مبینہ طور پر ترک حکومت کے دباؤ پر ان کے وطن واپس بھیجنا چاہتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG